تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 56

تحفه بغداد اردو تر جمه الولي ذو الفقار على ولو كان كتاب علی کی ذوالفقار ہے۔اور اگر ایمان ثریا سے الإيمان معلقا بالثريا لناله رجل لڑکا ہوتا تو ابناء فارس میں سے ایک شخص اسے وہاں من أبناء الفارس یکاد زیتہ سے بھی لے آتا۔قریب ہے کہ اس کا تیل روشن يضىء ولو لم تمسسه نار۔جَرى ہو جائے اگر چہ آگ اسے چھوٹی بھی نہ ہو۔اللہ الله في حُلل المرسلين۔قل إن كا رسول تمام رسولوں کے لباس میں۔کہ اگر تم كنتم تحبون الله فاتبعونی خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کروتا يحببكم الله۔وصل علی محمد خدا بھی تم سے محبت رکھے۔اور محمد پر اور محمد کی و آل محمد سيد ولد آدم و خاتم آل پر درود بھیج جو تمام بنی آدم کا سردار اور النبيين یرحمک ربک خاتم النبین ہے۔تیرا رب تجھ پر رحمت کرے گا بقية الحاشية كثر هذا القسم من بقيه حاشیه۔محدث کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یہ نہ الكلام مع واحد منهم يُسمّى مُحدَّثاً ہی الہام ہوتا ہے اور نہ ہی دل میں ڈالا جانے والا القاء وهذا غير الإلهام وغير الإلقاء فی ہوتا ہے۔اور نہ ہی ایسا کلام ہوتا ہے جو فرشتہ کے واسطہ الروع وغير الكلام الذى مع الملک سے ہو بلکہ یہ وہ کلام ہے جس سے ایک کامل انسان إنما يُخاطب بهذا الكلام الإنسان مخاطب کیا جاتا ہے۔اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت الكـامـل والـلـه يختص برحمته من سے مخصوص کر لیتا ہے۔یہاں احمد سرہندی کا کلام ختم يشاء۔تم كلامه فارجع إلى كلامه ہوتا ہے۔اگر تو منکروں میں سے ہے تو ان کے کلام کی إن كنت من المنكرين۔واذكر قصة من قال: وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِى وما كان من المرسلين واذكُرُ ما قال طرف رجوع کر اور اس شخص کے قصے کو یاد کر جس نے یہ کہا تھا کہ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي حالانکہ وہ رسولوں میں سے نہیں تھا۔نیز اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو یاد کر۔لے میں نے ایسا اپنی مرضی سے نہیں کیا۔(الکھف: ۸۲) ۶۰