تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 55

تحفه بغداد ۵۵ اردو تر جمه حضرتی اختر تک لنفسی میں وجیہ ہے۔میں نے تجھے اپنے لئے چنا۔تو وأنت منی بمنزلة لا يعلمها میرے حضور وہ مرتبہ رکھتا ہے جس کو دنیا نہیں الخلق۔وما كان الله لیترکک جانتی اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے جب حتى يميز الخبيث من الطيب۔تک که پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ انظُرُ إلى يوسف وإقباله والله دکھلاوے۔یوسف اور اس کے اقبال کی طرف غالب على أمره ولكن أكثر دیکھ۔اللہ تعالیا اپنے امر پر غالب ہے لیکن اکثر الناس لا يعلمون أردتُ أن لوگ نہیں جانتے۔میں نے چاہا کہ میں خلیفہ استخلف فخلقت آدم لیقیم بناؤں پس میں نے آدم کو پیدا کیا تا کہ وہ شریعت الشريعة ويحيى الدین۔کتاب کو قائم کرے اور دین کو زندہ کرے۔ولی کی بقية الحاشية۔وأكمل۔وأقوى بقيه حاشیہ۔ہاں انبیاء کی وحی شان میں اتم اور اکمل أقسام الوحی وحی رسولنا ہوتی ہے اور وحی کی تمام اقسام میں قوی تر وحی ہمارے رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی ہے۔وقال المجدد الإمام السرهندى (حضرت) مجد دامام سرہندی شیخ احمد رضی اللہ عنہ خاتم النبيين۔الـشـيـخ أحـمـد رضــى الله عنه في عنہ فی نے ایک مکتوب میں جس میں انہوں نے اپنے مكتوب يكتب فيه بعض الوصايا ایک مرید محمد صدیق کو بعض وصیتیں تحریر کی ہیں یہ إلى مريده محمد صديق : اعلم أيها فرمایا ہے۔میاں صدیق ! یاد رکھو کہ اللہ سبحانہ و الصديق أن كلامه سبحانه مع تعالیٰ کا ایک بشر سے کلام بھی تو بالمشافہ ہوتا ہے اور البشر قد يكون شفاها و ذلک یہ انبیاء سے ہوتا ہے اور کبھی کبھی ان کے بعض کامل الأفراد من الأنبياء وقد يكون متبعین سے ہوتا ہے۔اور جب اس قسم کا کلام ان ذلك لبعض الكُمَّل من متابعيهم وإذا میں سے کسی کے ساتھ کثرت سے ہو تو ایسے شخص کو ۵۹