تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 57

تحفه بغداد ۵۷ اردو تر جمه ويعصمك من عنده و إن لم اور اپنی جناب سے تیری حفاظت کا سامان کرے گا یعصمک الناس۔یعصمک الله اگر چہ لوگ تیری حفاظت نہ کریں اللہ تعالیٰ اپنی جناب من عنده وإن لم يعصمک احد سے تیری حفاظت کرے گا اگر چہ روئے زمین کے ۲۴ من أهل الأرضين۔تبت یدا لوگوں میں سے کوئی بھی تیری حفاظت نہ کرے۔ابولہب أبى لهب وتبّ ما كان له أن کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا۔اس کو يدخل فيها إلا خائفا وما نہیں چاہیے تھا کہ وہ اس کام میں ( یعنی تکفیر اور تکذیب أصابك فمن الله واعلم ان میں دخل دیتا مگر ڈرتے ہوئے۔جو تجھ پر آئے وہ العاقبة للمتقين۔وأَنذِرُ اللہ کی طرف سے ہے اور جان لے کہ نیک انجام عشيرتك الأقربين إنا سنُريهم متقیوں کا ہوتا ہے۔اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو بقية الحاشية الله تعالى: فَأَرْسَلْنَا بقیہ حاشیہ۔فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا۔قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ سَوِيًّا قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ بِالرَّحْمنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا۔قَالَ إِنَّمَا مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا قَالَ إِنَّمَا آنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ عَلمًا زَكِيًّا فَانظُرُ كيف كلَّم مَلَكُ الله أنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَمًا زَكِيَّال پس غور کر کہ اللہ کے فرشتے نے مریم سے کس طرح کلام کیا۔حالانکہ وہ نبی نہ تھیں۔پس اللہ سے ڈراور مريم وما كانت نبيّة فاتق الله ولا تكن من المعتدين۔وقد جاء في الحديث الصحيح زیادتی کرنے والا نہ بن۔ایک حدیث صحیح میں عمر وابن الحارث سے مروی ہے لے تب ہم نے اس کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا اور اس نے اس کے لئے ایک متناسب بشر تمثل اختیار کیا۔اس نے کہا میں تجھ سے رحمن کی پناہ میں آتی ہوں اگر تو تقویٰ شعار ہے۔اس نے کہا میں تو تیرے رب کا محض ایک ایلچی ہوں تا کہ تجھے ایک پاک خوبرو لڑکا عطا کروں۔(سورۃ مریم ۱۸ تا ۲۰) ۶۱