تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 41

تحفه بغداد ام اردو تر جمه ولا تجترء على رب السماوات جرات نہ دکھا اور ان واہموں کے پیچھے نہ والأرض ولا تقف ظنونا لگ کہ جن کی حقیقت کا تجھے علم نہیں۔اور لا تعلم حقيتها وإن الظن يقيناً ظن حق کے مقابل پر کچھ بھی کام نہیں لا يغني من الحق شيئا فيظهر آتا۔پس حق غالب آئے گا اور تجھے الحق وتكون من المتندمين۔ندامت ہوگی۔اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے إن أك كاذبا فعلی وبال جھوٹ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور اگر میں سچا کذبي وإن أك صادقا ہوا تو اللہ میری مدد اور نصرت فرمائے گا فالله يعيننـی ویـنـصـرنـی اور تمام مخلوق کو میری صداقت اور میرا نور ويُرى الخلق صدقی و نوری دکھلائے گا اور اللہ اپنے صادق بندوں کو والله لا يضيع عباده الصادقين۔کبھی ضائع نہیں کرتا۔۔وقد كُفّر مثلی کثیر میری طرح بہت سے اولیاء و اقطاب اور من الأولياء والأقطاب والأئمة ائمہ کی تکفیر کی گئی۔ان میں سے بعض مصلوب فبعضهم طلبوا وقتلوا ہوئے اور بعض مقتول ہوئے اور بعض کو ان وبعضهم أخرجوا من کے وطنوں اور گھروں سے بے در کر دیا گیا اور أوطانهم وديارهم وأُوذوا انہیں اذیت دی گئی یہاں تک کہ اللہ کی نصرت حتى جاء هم نصر الله فما ان کے پاس آگئی۔نہ تو وہ ضائع کئے گئے اور أُضيعوا و ما خُيّبوا وزادهم نہ ہی نامراد ہوئے۔( بلکہ ) اللہ نے انہیں الله بركة وعزة وجعل كثيرا بركت و عزت میں بڑھایا اور کثیر دلوں کو ان کی من أفئدة تهوى إليهم جانب مائل کر دیا اور ان کی برکات کے آثار وبلغ آثار بركاتهم إلى قرن بعد میں آنے والی صدیوں تک پہنچا دیئے۔آخرین و کذلک بشرنی ربّی اسی طرح میرے رب نے مجھے بشارت دی