تحفہٴ بغداد — Page 39
تحفه بغداد ۳۹ اردو تر جمه فـي اعلم أننا قد اعتصمنا وتمسكنا اور پکڑا ہے جو پہلے سے واضح ہو چکی تھی۔لیکن بمثال قد انجلى من قبل ولا تمہارے پاس تو کوئی مثال نہیں پھر ( بتاؤ ) کہ مثال لكم فأى فريق أحق ہم میں سے کونسا فریق امن کا زیادہ حقدار بالأمن؟ فلا تجترء واعلی ہے۔لہذا بدعتوں پر جرات نہ کرو۔اگر تم اللہ المحدثات واسألوا أهل کی سنن سے لا علم ہو تو اہل ذکر سے دریافت الذكر إن كنتم لا تعلمون کرلو اگر فی الواقعہ تمہیں (حق کی ) جستجو ہے۔سنن الله إن كنتم من الطالبين۔ہم نے اللہ کی اُس سنت کو جو تم سے پہلے لوگوں وإنَّا أريناكم سنة الله فی میں جاری ہو چکی ہے تم پر واضح کر دیا ہے۔لیکن ہے۔لیکن الذين خلوا من قبلكم وما تم نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی سنت الہی بينتم من سنة على دعواكم بیان نہیں کی۔( سچ تو یہ ہے کہ ) تم اللہ کی سنت ولن تجدوالسنن الله تبدیلا میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ، لہذا بے باک فلا تخالفوا كالمجترئين۔لوگوں کی طرح مخالفت نہ کرو۔وأنتم تعلمون أن اللــه تم جانتے ہو کہ اللہ نے اپنی کتاب (قرآن) قدرة على أقوالکم فی میں تمہارے اقوال کو رد کیا ہے اور وفات مسیح كتابه وذكر موت المسیح کا ذکر اس نے توٹی کے لفظ کے ساتھ اُسی بلفظ التوفّى كما ذكر طرح کیا ہے جیسا کہ اُس نے ہمارے نبی کریم موت نبینا بذلك اللفظ کی وفات کا ذکر اسی لفظ ( توئی ) سے کیا ہے۔فأنتم تؤوّلون ذلك اللفظ مسیح کے بارے میں تو تم اس لفظ کی تاویل صلى الله في المسيح وأما في سيدنا کرتے ہو لیکن ہمارے سید و مولا ع کے فلاتؤوّلونه فتلك إذا متعلق اس کی تاویل نہیں کرتے تب تو یہ بڑی قسمة ضيزى وخيانة في ناقص تقسیم اور اللہ کے دین میں خیانت ہے۔دين الله ولكنكم لا تتقونه | لیکن تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور سوچ سمجھ کر ۴۳