تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 38

تحفه بغداد ۳۸ اردو تر جمه الأسرار في أوائل الزمان مستورا نہیں جانتا۔اے عزیز من! ابتدائے زمانہ میں کچھ و کذلک کان قدرا مقدوراً ثم اسرار ورموز در پردہ تھے اور ایسا ہونا مقدر تھا۔مگر پھر (۱۲) في زماننا تبين القضاء وبرح ہمارے اس زمانے میں وہ قضا وقد رکھل کر سامنے الخفاء وظهر خطأ العاسفين آگئی، پردہ ہٹ گیا اور ظالموں کی غلطی ظاہر ہوگئی۔وكذلك فعل ربنا ليقم ہمارے رب نے ایسا ہی کیا تا کہ وہ علما ءسوء المتكبـريـن مـن علماء السوء میں سے متکبر گروہ کا صفایا کرے اور متعصب وليظهر قدرته علی رغم أنف لوگوں کے علی الرغم اپنی قدرت کو ظاہر کرے۔المتعصبين۔وإن مثل نزول نزول مسیح کی مثال نزولِ ایلیا جیسی ہے کہ اللہ المسيح كمثل نزول ایلیا قد نے اس (ایلیا) کے نزول کا وعدہ فرمایا لیکن وعد الله لنزوله ثم جاء يحيى اُن کی جگہ بیٹی آ گیا۔اس میں غور و فکر کر نے مقامه إنّ في ذلك لهُدى والوں کے لئے سامانِ ہدایت ہے۔اگر تجھے للمتفكرين۔وإن كنت لا تعلم معلوم نہیں تو یہودیوں اور عیسائیوں سے فاسأل اليهود والنصارى وقد دریافت کر لے۔اُن کے ہاں یہ قصہ تواتر سے تواترت هذه القصة عندهم وما آیا ہے اور اس بارے میں کوئی دورائے اختلف فيها اثنان ففتش ولا تکن نہیں۔لہذا اچھی طرح سے تحقیق کر اور اکٹر باز من المتقاعسين۔نہ بن۔أيها الأخ العزيز! إن قصة اے پیارے بھائی! اہلِ کتاب میں ایلیا کا إيليا من المتواترات القطعية قصه قطعی یقینی متواترات میں سے ہے اور اس اليقينية في أهل الكتاب و حقیقت کو اللہ نے ان انبیاء ( بنی اسرائیل ) پر كشف الله تلك الحقيقة منکشف کر دیا ہے، لہذا تو ان کی ہدایت کی على أنبيائهم فبهداهم اقتده پیروی کر اور بدعتیوں میں سے نہ بن۔پھر ولا تكن من المبدعين۔ثم | واضح ہو کہ ہم نے اُسی مثال کو مضبوطی سے تھا ما ۴۲