تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 37

تحفه بغداد ۳۷ اردو تر جمه إنما مثلى كمثل رجل آثَرَ حِبًّا میری حالت ایک ایسے شخص کی سی ہے جس على كل شيء وتبتل إليه وسعى نے (اپنے) محبوب کو ہر دوسری چیز پر ترجیح دی ہو في ميادين الاقتراب واقتعد اور اُسی کا ہو گیا ہو اور قرب پانے کے میدانوں للقائه غارب الاغتراب و ترک میں پوری کوشش کی ہو اور اس کی ملاقات کے لئے تراب الوطن وصحبة الأتراب لمبے سفر پر روانہ ہوا ہو۔اور اس نے خاک وطن اور وقصد مدينة حبيبه وذهب صحبت یاراں کو خیر باد کہہ دیا ہو اور دیارِ حبیب کا وترك لحبه البيت و الفضة قصد کیا اور چل دیا ہو اور اس نے اپنے محبوب کی خاطر والذهب وترك النفس گھر بار اور سیم و زرکو خیر باد کہہ دیا ہو بلکہ اس حد لمحبوبه حتى صار كالفانین تک کہ اپنے محبوب کے لئے خود فراموش ہو چکا ہو وبعزة الله وجلاله إني آثرت کہ اس کی حالت فانیوں جیسی ہوگئی ہو۔مجھے اللہ کی وجه ربّى على كل وجه و بابه عزت اور جلال کی قسم کہ میں نے اپنے رب کے على كل باب ورضاءه علی کل رخ تاباں کو ہر چہرے پر اور اس کے دروازے کو رضاء۔وبـعـزّته إنه معى في كل ہر دروازے پر اور اُس کی رضا کو ہر رضا پر مقدم رکھا وقتى وأنا معه في كل حين ہے اور قسم ہے اُس کی عزت کی کہ وہ ہر آن میرے وآثرت دولة الدين وهی تکفینی ساتھ اور میں ہردم اُس کے ساتھ ہوں۔میں نے ولو لم يكن حبّة لتجهيزی دین کی دولت کو ترجیح دی اور وہی میرے لئے کافی وتكفيني۔وإنى منعم مع يد ہے خواہ میری تجہیز و تکفین کے لئے ایک دانہ تک نہ الإملاق وفارغ من الأنفس ہو۔تنگدستی اور انفس و آفاق سے تہی دامن ہونے والآفاق وشغفنی ربی حُبًّا کے باوجود میں آسودہ ہوں۔میرے رب کی محبت وأُشرِبَ في قلبي وجهه و أنا منه میرے رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے اور اس کا بمنزلة لا يعلمها أحد من وجہ کریم میرے دل میں گھر کر گیا ہے اور میرا مرتبہ العالمين۔أيها العزيز ! كان بعض | اس کی بارگاہِ عالی میں وہ ہے جسے کائنات کا کوئی فرد ام