تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 33

تحفه بغداد ۳۳ اردو تر جمه ألم تأتك أخبارها أو أنت من نہیں پہنچتا ؟ کیا یہ خبریں تجھ تک نہیں پہنچیں یا پھر تو الغافلين؟ أما تكاثرت فتن اس سے بے خبر ہے؟ (بتا) کیا کافروں کے فتنے الكفار ؟ أما جاء وقت ظهور بڑھتے ہی نہیں جار ہے؟ کیا علامات ونشانات کے الآثــار؟ أما عمت الفتن فی ظہور کا وقت نہیں آ گیا ؟ کیا بیابانوں، شہروں اور البراري والبلاد والديار ؟ أما جاء ملکوں میں فتنے عام نہیں ہو گئے؟ کیا ارحم الراحمین (۱۴ وقت رحمة أرحم الراحمين؟ أما خدا کی رحمت کا وقت نہیں آ گیا ؟ کیا ہمارے اس عَنَّ لنا في زمننا هذا قبلُ الذياب زمانہ میں سخت تاریک و تار رات میں بھیڑیوں في ليلة فتية الشباب غُـدافية کے غول کے غول ظاہر نہیں ہوئے کہ ہم محصور ہوکر الإهاب وصرنا كالمحصورين؟ رہ گئے ہیں۔أُنظُرُ يا أخي كيف أحاط اے میرے بھائی دیکھے اظلم و جور اور گھٹا ٹوپ بالناس ظلام و ظلم ومظلمة اندھیروں نے کس طرح لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ہر وخُوّفنا من كلّ طرف بأنواع طرف سے کتوں کی طرح طرح کی آوازوں نے النباح وارتفعت الأصوات ہمیں خوفزدہ کیا ہوا ہے۔سکیوں اور نوحوں کی بالأرنـان والنياح وضربت علينا آوازیں بلند ہو گئی ہیں۔لوٹ مار کر کے ہم پر المسكنة بالاكتساح وصال بے بسی مسلط کر دی گئی ہے۔اور مہلک موت الكفار كالحين المجتاح وعفت کی طرح کا فرہم پر ٹوٹ پڑے۔اور تقویٰ اور آثار التقوى والصلاح وصبت نیکی کے آثار معدوم ہو گئے اور ہم پر ایسے علينا مصائب لو صُبت على مصائب آن پڑے ہیں کہ اگر وہ پہاڑوں پر الجبال لدكتها و كسرتھا پڑتے تو وہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے اور پیالہ کی طرح كالرداح وامتلأت الأرض شرکا چکنا چور کر دیتے۔اور زمین شرک، کذب ، جھوٹ وكذبا وزورا ومن الأفعال القباح اور افعال قبیحہ سے بھر گئی ہے اور بدفطرت لوگ وتراء ت صفوف الطالحين۔صف در صف ظاہر ہو گئے۔۳۷