تحفہٴ بغداد — Page 32
تحفه بغداد ۳۲ اردو تر جمه وما كان أحد منهم نبيا ولا سے بھی کلام فرمایا۔جبکہ ان میں سے کوئی ایک بھی رسولا ولكن كانوا من عباده نبی تھا نہ رسول۔ہاں یہ سب اس کے محبوب بندوں الـمحبـوبيــن۔أليس من أعجب میں سے تھے۔کیا یہ عجیب تر بات نہیں کہ اللہ العجائب أن يكلم الله نساء بنی بنی اسرائیل کی خواتین سے تو ہمکلام ہو اور انہیں إسرائيل ويعطى لـهُنَّ عِزّةَ اپنے مکالمات و مخاطبات کا عزو شرف بخشے۔مكالماته وشرف مخاطباته وما (لیکن) وہ اس امت کے مردوں کو بھی ان يعطى لرجال هذه الأمة نصيبا ( مكالمات و مخاطبات) سے بہرہ مند نہ فرمائے ، منها وهي أمة خير المرسلين؟ حالانکہ یہ خیرالمرسلین ﷺ کی امت ہے اور اُس وقد سماها خير الأمم وختم بها نے خود اس کا نام خیر الامم رکھا۔اور تمام امتوں کا الأمم كلها وقال : ثُلَّةٌ مِّنَ اس پر خاتمہ فرمایا۔اور فرمایا کہ ثُلَّةٌ مِّنَ الآخِرِينَ الآخِرِينَ يعنى فيها كثير من یعنی اس (گروہ) میں کامل خواتین اور کامل مرد بڑی کثرت سے ہوں گے۔المكملات والمكملين۔وأنت ترى يا أخي عافاك اے میرے بھائی! اللہ تجھے دونوں جہانوں الله في الدارين كيف اشتدت میں عافیت سے رکھے ، تجھے معلوم ہے کہ اس زمانہ الحاجة في هذه الأيام إلى ظهور میں ایک ایسے مجدد کے ظہور کی ضرورت کس قدر مجدد يؤيد الدين ويقيم البراهين شدت اختیار کر گئی ہے جو دین کی تائید کرے، ويرجم الشياطين۔ألا ترى أن دلائل و براہین قائم کرے اور شیطانوں کو رجم الضلالة قد غلبت وغارات کرے۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ ضلالت غالب آچکی الكافرين عمّت و أحاطت۔وكم ہے۔کافروں کے حملے عام ہو گئے ہیں اور ہر من أمم تبت و هلکت؟ ألا تنظر طرف سے احاطہ کر لیا ہے۔کتنی ہی امتیں تباہ اور هذه المفاسد؟ الست من ہلاک ہو گئیں۔کیا تو یہ مفاسد نہیں دیکھ رہا ؟ کیا المتألّمين على مصائب الإسلام؟ | اسلام پر نازل ہونے والے مصائب سے تجھے دکھ ۳۶