تحفہٴ بغداد — Page 34
تحفه بغداد ۳۴ اردو تر جمه وكنت أبكى بكاء الماخض میں اُن دنوں اسلام کی کسمپرسی کی حالت پر على ضعف الإسلام فی تلک دردزہ میں مبتلا عورت کی طرح روتا رہا ہوں۔الأيام وأرى مسالک الھلک میں ہلاکت کی راہوں کو دیکھتا رہا ہوں اور میں وأنظر إلى عون الله العلام فإذا خدائے علام کی مدد کا منتظر رہا۔پس اللہ قسام ازل العناية تراءت وهبت نسيم ألطاف کے الطاف و عنایات کی باد نسیم چلنے لگی۔مجھے الله القسام وبُشِّرتُ بأعلى مراتب اعلیٰ درجہ کے الہام اور شراب وصل کے مصفا جام الإلهام وأصفى كأس المُدام كما کی بشارت دی گئی جیسے حاملہ عورت کو در دزہ کے تُبشر الحامل عند مخاضها وقت بیٹے کی بشارت دی جاتی ہے اور میں مسرور بالغلام فصرت من المسرورین ہو گیا اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنی اس خیر کو اپنے فأُمِرتُ أن أفرّق خيرى على رفقاء میں تقسیم کروں اور میرا بھروسہ اللہ کی ذات رفقتی و کان علی اللہ ثقتی پر تھا۔اس پر انہوں نے میری تکفیر کی لعن طعن کیا فكفرونى ولعنوا وسبوا واضروا اور گالیاں دیں اور مجھے سخت مصائب میں مبتلا کر الخطوب والبوا وأُوذيت من دیا اور مجھے اپنوں اور پرایوں کی زبان درازیوں بي ألسنة القاطنين والمتغربين۔سے اذیت دی گئی۔ورأيت أكثر العلماء أسارى میں نے اکثر علماء کو اپنے نفسوں اور اپنی ہوا و ہوس في أيدى أنفسهم وأهوائهم كے ہاتھوں اسیر پایا۔اور میں نے انہیں چیتھڑوں ورأيتهم كغلام علیہ سمل وفی میں ملبوس ایسے غلام کی طرح دیکھا جس کی چال مشيه قزل وفي آذانه وقر و علی میں لنگڑا پن ، اس کے کانوں میں بہرہ پن ،اس کی عينه غشاوة وفى قلبه مرض وهو آنکھ پر پردہ اور اس کے دل میں بیماری ہو اور وہ گل علی مولاه وليس فيه خير اپنے آقا پر بوجھ ہو اور اس میں کوئی ایسی خوبی نہ ہو يسر المشترين۔يُظهرون على جو خریداروں کو بھائے اور وہ اپنے بھائیوں کو تو ظلم کا الإخوان شبائة اعتدائهم | نشانہ بناتے ہیں لیکن اپنے دشمنوں کے وار کو بھول ۳۸