تحفہٴ بغداد — Page 31
تحفه بغداد ۳۱ اردو تر جمه رض 66 الحق بعباده المقربين وهو مخاطبات کے ذکر سے بھری پڑی ہیں۔اور وہ کریم الكريم الذي يُلقى الروح على ذات ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے من يشاء من عباده ويزيد من وحی نازل فرما دیتی ہے اور جسے چاہے اُسے ایمان يشاء في الإيمان واليقين۔أما اور یقین میں بڑھا دیتی ہے۔۔کیا تو نے فتوح قرأت في "فتوح الغيب الذى الغیب میں جوسیدی شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ لسيدى الشيخ عبد القادر عنہ کی تصنیف ہے نہیں پڑھا کہ کس طرح انہوں الجيلاني كيف ذکر حقيقة نے مکالمات کی حقیقت کا ذکر فرمایا ہے؟ وہ المكالمات؟ وقال : إن الله تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء سے نہایت يكلم أولياءه بكلام بليغ لذيذ بليغ ولذيذ کلمات سے ہمکلام ہوتا ، اپنے رموز و اسرار وينبئهم من أسرار ويخبرهم من سے انہیں آگاہ کرتا اور اہم خبروں سے باخبر رکھتا أخبار ويعطيهم عِلم الأنبياء ہے اور انہیں انبیاء کا علم، انبیاء کا نور ، انبیاء کی ونور الأنبياء وبصيرة الأنبياء بصيرت اور انبیاء کے معجزات عطا فرماتا ہے۔لیکن ومعجزات الأنبياء ولكن وراثة ( يہ عطا ) انہیں (خلی طور ) وراثتا ملتی ہے نہ کہ لا أصالة ويجعلهم متصرفین فی اصالتاً۔اور وہ (خدا) انہیں زمین اور آسمانوں اور الأرض والسماوات وفي جميع تمام الہی بادشاہت میں تصرف عطا کرتا ہے۔پس ملكوت الله۔فانظُرُ إلى مراتبهم تو ان کے مراتب کو دیکھ اور تعجب مت کر کیونکہ اللہ ولا تتعجب فإن الله فیاض يعطى بڑا فیاض ہے، اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے عطا عباده ما يشاء وليس بضنين کر دیتا ہے اور وہ بخیل نہیں۔اللہ نے اپنی کتاب والله قص علينا قصص الملهمين عزيز (قرآن) میں الہام پانے والوں کے في كتابه العزيز وأنبأنا أنه كلم واقعات ہمارے لئے بیان فرمائے ہیں۔اور اس أم موسى علیه السلام و کلم نے ہمیں بتایا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کی ذا القرنين وكلم الحواريين والدہ سے کلام کیا۔ذوالقرنین سے اور حواریوں