تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 26

تحفه بغداد ۲۶ اردو تر جمه وَكَأْسٍ قَدْ شَرِبْنَا فِي وِهَادٍ وَأُخْرَى نَشْرَبَنْ فَوْقَ الْمَصَادِ اور بہت سے پیالے تو ہم نے پست زمین میں پئے ہیں اور دوسرے پیالے ہم پہاڑ کی چوٹی پر پئیں گے۔وَلَسْتُ أَخَافُ مِنْ مَوْتِي وَ قَتْلِي إِذَا مَا كَانَ مَوْتِي فِي الْجِهَادِ میں اپنی موت اور قتل سے نہیں ڈرتا جب کہ میری موت جہاد میں واقع ہو۔وَاثَرُنَا الْحَبِيبَ عَلَى حَيَاةِ وَقُمْنَا لِلشَّهَادَةِ بِالْعَتَادِ اور ہم نے اپنے محبوب کو اپنی زندگی پر ترجیح دی ہے اور ہم پوری تیاری سے شہادت پانے پر کمر بستہ ہیں۔وَمَا الْخُسْرَانُ فِي مَوْتٍ بِتَقْوَى وَخُسْرُ الْمَرْءِ فِي سُبُلِ الْفَسَادِ اور تقویٰ پر موت آنے میں کوئی خسارہ نہیں انسان کا خسارہ تو فساد کی راہوں میں ہوتا ہے۔وَإِنِّي قَدْ خَرَجْتُ إِلَى ذُكَاءٍ فَفَارَتْ عَيْنُ نُورٍ مِّنْ فُؤَادِى اور بے شک میں ایک سورج کی طرف نکل کھڑا ہوا تو میرے دل سے ایک نور کا چشمہ پھوٹ پڑا۔بِحَمْدِ اللَّهِ إِنَّ الْحِبَّ مَعَنَا وَمَا يَرْمِي مَتَاعِى بِالْكَسَادِ الحمد للہ کہ ہمارا محبوب (خدا) ہمارے ساتھ ہے اور وہ میرے سامان کو کساد بازاری کا شکار نہیں ہونے دے گا۔وَيُدْنِينِي بِحَضْرَتِهِ بِلُطْفِ وَيَسْقِيْنِى مُدَامَ الْإِتِحَادِ اور وہ مہربانی سے مجھے اپنی جناب میں قریب کرتا ہے اور مجھے وصل کی شراب پلاتا ہے۔وَإِنَّ هِدَايَةَ الْفُرْقَانِ دِينِي وَأَدْعُوكُمْ إِلَى نَهْجِ السّدَادِ اور بے شک قرآن کی ہدایت ہی میرا دین ہے اور میں تمہیں بھی درست راستے کی طرف بلاتا ہوں۔فَقُمْ إِنْ شِئْتَ كَالْأَحْبَابِ طَوْعًا وَإِمَّا شِئْتَ فَاجُلِسُ فِي الْأَعَادِي اگر تو چاہے تو دوستوں کی طرح (اپنی) خوشی سے اٹھ اور اگر چاہے تو تو دشمنوں میں بیٹھارہ۔