تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 25

تحفه بغداد ۲۵ اردو تر جمه أراك فتــی صــالــحــا فارجو میری نگاہ میں تو صالح نوجوان ہے۔پس میں امید أن تقبل ما قلتُ لك وأرجو رکھتا ہوں کہ میں نے تمہیں جو کہا ہے وہ تم قبول کرو أن تُدر کک رقة علی دین گے، نیز مجھے یہ بھی امید ہے کہ تم پر میرے آقا اور سيدى و سیدک و جتک اپنے آقا اور جد امجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلى الله علیه وسلم و تسلک کے دین کی خاطر رقت طاری ہوگی۔اور تم عارفوں کی راہ پر گامزن ہو گے۔مسلک العارفين۔تَذَكَّرُيَا أَخِي يَوْمَ الصَّنَادِى وَتُبْ قَبْلَ الرَّحِيْلِ إِلَى الْمَعَادِ اے میرے بھائی ! حشر کے دن کو یاد کر اور آخرت کی طرف کوچ سے پہلے تو بہ کر لے۔فَأَخْرِجُ كُلَّ حِقْدِكَ مِنْ جَنَانِ وَ زَيِّ النَّفْسَ مِنْ سَمِّ الْعِبَادِ اپنے ہر کینے کو دل سے نکال ڈال اور نفس کو دشمنی کے زہر سے پاک کر۔وَ خَفْ قَهُرَ الْمُهَيْمِنِ عِندَ ذَنْبٍ وَقِفُ ثُمَّ انْتَهِجُ سُبُلَ الرَّشَادِ اور نگران خدا کے قہر سے گناہ کرتے وقت ڈر اور رک جا۔پھر ہدایت کے راستوں پر چل۔وَأُقْسِمُ أَنَّنِي يَا ابْنَ الْكِرَامِ لَقَدْ أُرْسِلْتُ مِنْ رَّبِّ الْعِبَادِ اور اے شریفوں کی اولاد میں قسم کھاتا ہوں کہ میں یقیناً بندوں کے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔وَقَدْ أُعْطِيتُ عِلْمًا بَعْدَ عِلْمٍ وَكَأْسًا بَعُدَ كَأْسٍ مِنْ جَوَادِى اور میں اپنے بھی خدا کی طرف سے علم پر علم اور جام پر جام سے نوازا گیا ہوں۔وَحِبَى كُلَّ حِيْنِ يَجْتَبِيْنِي وَيُدْنِينِي وَ يُعْطِينِي مُرَادِى اور میرا محبوب ہر وقت مجھے برگزیدہ کرتا ہے اور اپنے قریب کرتا اور میری مراد مجھے عطا کرتا ہے۔فَمَا أَشْقَى بِلَعُنِ اللَّاعِنِيُنَا وَصِدْقِي سَوْفَ يُذْكَرُ فِي الْبَلَادِ پس لعنت کرنے والوں کی لعنت سے میں بدبخت نہیں ہوسکتا اور میری سچائی کا ضرور ملکوں میں ذکر کیا جائے گا۔۲۹