تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 27

تحفه بغداد ۲۷ اردو تر جمه وَقَدْ بَارَى الْعَدُوُّ بِعَزْمِ حَرْبٍ وَبَارَزْنَا فَيَا قَوْمِي بَدَادِ اور بے شک دشمن لڑائی کے ارادے سے سامنے آگیا اور ہم بھی مقابلہ میں نکلے ہیں۔پس اے میری قوم! میرے مد مقابل کو سامنے لا۔وَكَانَ نَصِيحَةٌ لِلَّهِ فَرْضِي فَقَدْ بَلَّغْتُ فَرْضِي بِالْوَدَادِ اور خدا کے لئے نصیحت کرنا میرا فرض تھا اور میں نے اپنا فرض دوستانہ جذبات کے ساتھ پورا کر دیا ہے۔أيها الأخ العزيز! ما جئتُ پیارے بھائی ! میں رات کو (چھپ کر ) آنے كـطـارق ليل أو غشاء سيل إن والے شخص کی طرح نہیں آیا۔نہ میں سیلاب کی جئت إلا في وقت الضرورة خس و خاشاک ہوں۔میں عین ضرورت کے وقت وعلى رأس المائة وجعلني الله اور صدی کے سر پر آیا ہوں اور اللہ نے مجھے اس لهذه المائة مجددًا لأجدد الدين صدى كا مجدد بنایا ہے تا کہ تجدید دین کروں۔اور یہ وقد جاء في الأخبار الصحيحة (بات) احادیث صحیحہ میں بھی آئی ہے کہ اللہ اس أن الله يبعث لهذه الأمة على امت کے لئے ہر صدی کے سر پر ایک شخص مبعوث رأس كل مائة من يجدد دينها فرمائے گا جو اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔سو فتحسَّسُ من مجدّد هذه المائة؟ اِس صدی کے مجدد کو تلاش کر اور اس پر غور و فکر کر ، وتفكر فإن الله يؤيد المتفكرين۔کیونکہ اللہ غور وفکر کرنے والوں کی تائید فرماتا ہے۔وقد جاء في أخبار أُخرى أن اور دیگر احادیث میں آیا ہے کہ جب رسول رسول اللہ صلی الله علیه وسلم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو زمین نے لما توفى صاحت الأرض شیخ کر یہ کہا: اے میرے ربّ! میں تو انبیاء فقالت: يا رب بقيت خالية إلى صلوات اللہ علیہم اجمعین کی تشریف آوری سے تا يوم القيامة من أقدام الأنبياء روز قيامت خالی رہ گئی ہوں۔اس پر اللہ تعالیٰ ۳۱