تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 19

تحفه بغداد ۱۹ اردو تر جمه ترک کتاب الله وسنن رسوله (قرآن) اور اس کے رسول کے طریقہ ہائے کار کو وحمل أوزار خسران الدنیا چھوڑنے میں اور دنیا و آخرت کے خسران کا بوجھ والآخرة وسماع لعن اللاعنين۔اٹھانے اور لعن طعن کرنے والوں کی لعن طعن سننے میں أيها الأخ الكريم للحق أحقُّ أن کوئی فائدہ اور راحت نہیں ہے۔اے معزز بھائی ! حق يُتبع والصدق حقيق بأن يُقبل اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور صداقت کا یہ حق ہے کہ اسے قبول کیا جائے اور اسے غور ويُستمع ويد الحق تصدع رداء سے سنا جائے۔دست حق شک کا پردہ چاک کرتا ہے اور الشك والحق هو الجوهر حق وہ جو ہر ہے جوڈھلائی کے وقت نمایاں ہوتا اور اپنے وقت پر جو اللہ نے اس کے لئے مقدر فرمایا ہے چمکتا ہے، ہر اہم خبر کی ایک قرارگاہ اور ہر ستارے کے لئے نباً مستقر ولكل نجمٍ مطلع ولا ایک جائے طلوع ہوتی ہے اور اسرار وقوع پذیر ہونے کے الذي يظهر عند السبك ويتلألأ في وقته الذي قدر الله له ولكلّ تعرف الأسرار إلا بعد وقوعها۔بعد ہی شناخت کئے جاتے ہیں۔پس مبارک وہ جس فطوبى لمن فهم هذا السر نے اس راز کوسمجھ لیا اور اس نے نظمندوں کی طرح اس امر کا وأدرك الأمر كالعاقلين۔وإني | ادراک کر لیا اور مجھے یقین ہے کہ آپ جیسے فضل و تقویٰ أتيقن أن مثلك مع كمال میں صاحب کمال کو اگران معارف سے وہ آگہی ہوتی جو فضلک و تقواك لو كان مُطلعا مجھے حاصل ہے تو اس کی زبان مجھے لعن طعن کرنے سے على معارف اطلعت عليها لكف ضرور رک جاتی اور شریعت و دین کے معارف کی نسبت لسانه من لعنی وطعنی ولَقَبِلَ ما جو میں نے کہا ہے وہ اسے ضرور قبول کر لیتا۔لیکن قلت من معارف الملة والدين تیرے متعلق میرا یہ خیال ہے کہ تم نے میری باتوں کی | تم ولكني أظنّك ما فهمت حقيقة حقیقت کو نہیں سمجھا اور میرے حال کی کیفیت سے تمہیں مقالي وما علمت صورة محالی آگاہی نہیں۔تمہارے بارے میں میرا خیال اچھا ہے و ما ظني فيك إلا الخير وأسأل اور میں اللہ سے تمہارے لئے اس کا فضل اور اس کی ۲۳