تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 18

تحفه بغداد ۱۸ اردو تر جمه ولا التابعين والصحابة صحابہ وفات مسیح پر ایمان رکھتے تھے اور اسی كلهم كانوا يؤمنون بوفاة طرح اللہ تعالیٰ کے وہ صاحب بصیرت المسيح وکذلک الذین بندے بھی جو ان کے بعد آئے۔کیا تو صحیح جاؤوا بعدهم من عباد الله بخاری پر غور نہیں کرتا کہ کس طرح عبد اللہ المتبصرين۔ألا تنظر صحيح ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں آیت البخارى كيف فسر فيه يُعلَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ ل کی عبداللہ بن عباس تفسیر کی اور انہوں نے مُتَوَفِّيكَ (کے معنی) آية يُعِيْنَى إِنّى مُتَوَفِّيْكَ مُمِيتُک کئے اور امام بخاری نے آیت وَرَافِعُكَ فقال متوفیک اِنّى مُتَوَفِّيكَ کو اسے اپنی جگہ سے دوسری : مميتك۔وأشار الإمام البخاری جگہ لا کر (ابن عباس) کے اس قول کی صحت کی إلى صحة هذا القول بإيراده آية جانب اشارہ کیا ہے اور جیسا کہ ماہرین پر یہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ في غير محله وهذه امر مخفی نہیں کہ امام بخاری اجتہاد اور اپنی عادة البخاري عند الاجتهاد و إظهار رائے کے اظہار کے موقع پر یہی طریق مذهبه كما لا يخفى على الماهرين اختیار کرتے ہیں۔أيها الأخ الصالح ! انظُرُ اے نیک بھائی ! دیکھ کہ کس طرح امام كيف أشار البخاری رحمه الله بخاری رحمہ اللہ نے ان دونوں آیتوں کو غیر محل إلى مذهبه بجمع الآیتین فی غیر میں یکجا کر کے اور ان کا ایک دوسرے کو تقویت المحل وإراءة تظاهرهما۔دینے کا اظہار کر کے اپنے مسلک کی جانب واعترف بأن المسيح قدمات اشارہ کیا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ مسیح وفات پا فتدبَّرُ فإن الله یحب المتدبرین گئے ہیں۔پس تو تدبر کر کیونکہ اللہ تدبر کرنے وما كان لي منفعة وراحة فی والوں کو پسند کرتا ہے۔مجھے اللہ کی کتاب لے اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔(آل عمران :۵۶) ۲۲