تحفہٴ بغداد — Page 14
تحفه بغداد ۱۴ اردو تر جمه ولا يُلقاها من الأمم إلا الذى ان نکات و معارف) کو امتوں میں سے وجد وقت ظهورها وکان | صرف وہی حاصل کرے گا کہ جس نے ان کے من المنقطعين المبعوثين ظہور کا وقت پایا اور وہ فنافی اللہ افراد اور مبعوثین ولله أسرار وأسرار وراء میں سے ہوگا۔اللہ کے اسرار ہیں اور ایسے أسرار لا تطلع نجومها إلا پوشیده در پوشیدہ ہیں کہ جن کے ستارے صرف في وقتها فلا تجادل الله اپنے وقت پر ہی طلوع کرتے ہیں۔پس اللہ في أسراره۔أتجترء علی سے اُس کے اسرار کے بارے میں جھگڑا نہ کر۔ربك وتقول لما فعلت کیا تو اپنے رب کے سامنے بیبا کی کرتے كذا ولم ما فعلت كذا؟ ہوئے یہ کہہ سکتا ہے کہ تو نے یوں کیوں کیا یا يا أخي فوِّضُ غیب الله إلى تو نے یوں کیوں نہیں کیا ؟ اے میرے بھائی ! الله ولا تدخل فی غیوبه اللہ کے غیب کو اللہ کے پاس ہی رہنے دے اور ولا تزخ دقائق المعارف اُس کے غیبی امور میں دخل نہ دے اور ان دقیق التي دق مأخذها في ظواهر معارف کو جن کے مآخذ شرع کے ظواہر میں الشرع ولا تَقْفُ ما لیس لک بڑے گہرے ہیں انہیں نظر انداز نہ کر۔اور جس به عـلـم و ثبت نفسک علی چیز کا تجھے علم نہیں ، اس کے پیچھے مت لگ اور اپنے آپ کو متقیوں کی روش پر برقرار رکھ۔ما كان إيمان الأخيار من اعلیٰ مرتبہ کے صحابہ اور تابعین کا نزول مسیح الصحابة والتابعين بنزول المسیح علیہ السلام ( کے عقیدے) پر صرف اجمالی ایمان عليه السلام إلا إجماليا وكانوا تھا۔اور وہ نزول پر مجمل ایمان رکھتے تھے اور اس يؤمنون بالنزول مجملا ويفوضون سبيل المتقين۔تفاصيلها إلى الله خالق السماوات کی تفصیلات خَالِقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ والأرضين۔وكيف يجوز نزول اللہ کے سپر د کر تے تھے۔مسیح علیہ السلام المسيح علیه السلام علی المعنی کا نزول حقیقی معنی میں کیسے جائز ہو سکتا ہے ۱۸