تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 15

تحفه بغداد ۱۵ اردو تر جمه الحقيقي والله قد أخبر فی | جبکہ اللہ نے اپنی کتاب عزیز میں یہ بتا دیا ہے كتابه العزيز أنه تُوفّى ومات؟ کہ وہ وفات پاچکے اور فوت ہو گئے ہیں فرمایا۔وقال : يُعِيسَى إِنِّى مُتَوَفِّيكَ يُعِيسَى إِلى مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ وَرَافِعُكَ اِلَى۔وقال : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ إِلَى لى نيز فرمايا: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وقال: كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ : فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا فرمایا: فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا اور الْمَوْتَ۔وقال: وَحَرُمُ الْمَوْتَ نیز فرمایا: وَحَرُم علَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ کے نیز على قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ " يَرْجِعُونَ وقال : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ نیز فرمایا: وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ٥ يعني ماتوا كلهم كما استدل یعنی وہ سب وفات پاچکے جیسا کہ صدیق اکبر به الصديق الأكبر عند وفاة النبي نے نبی ( کریم ) صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صلى الله علیه وسلم فما بقی موقعہ پر اس سے استدلال فرمایا تھا۔پس اگر تم اللہ شک بعد ذلك في وفاة اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو، اس کے بعد المسيح وامتناع رجوعه إن كنتم مسیح کی وفات اور ان کے واپس دنیا میں نہ آنے لے اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں (آل عمران : ۵۶ ۲ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس وقت تو تُو ہی ان کا نگہبان اور محافظ اور نگران تھا۔(المائدة: ۱۱۸) سے پھر وہ جس کی موت کا حکم جاری کر چکا ہوتا ہے اس کی روح کورو کے رکھتا ہے۔(الزمر : ۴۳) ۴ اور ہر ایک بستی جسے ہم نے ہلاک کیا ہے اس کے لئے یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ اس کے بسنے والے لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آئیں گے۔(الانبیاء : ۹۶) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم محض ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔(آل عمران: ۱۴۵) ۱۹