تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 13

تحفه بغداد ۱۳ اردو تر جمه العالمين۔بل الذين يطيعونه ولا اتر آئے۔بلکہ جولوگ اس کی اطاعت کرتے ہیں يبتغون إلا مرضاته هم قوم لا اور اس کی مرضیات کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے يحزنهم إلا فراقه وإذا وجدوا ما ایسے لوگوں کو اس کے فراق کے سوا اور کوئی چیز ابتغوا فلا يبقى لهم غم نہیں پہنچاتی اور پھر جب وہ اپنا مقصود یا لیتے هم ولا غم بعد ذلک ولو ہیں تو اس کے بعد ان کے لئے کوئی ہم وغم باقی قتلوا وأُحرقوا ولا يضرهم نہیں رہتا خواہ وہ قتل کئے جائیں یا جلا دیئے سب قوم ولا لعن فرقة جائیں۔کسی قوم کی دشنام طرازی اور کسی ويجعـل اللـه كـل لعنة بركة فرقے کا لعن طعن انہیں نقصان نہیں پہنچا تا۔اور عليهم وكل سب رحمةً فی اللہ ہر لعنت کو ان کے لئے برکت اور ہر دشنام کو حقهم۔ألا يعلم ربنا مافی ان کے حق میں رحمت بنا دیتا ہے کیا ہمارا رب صدورنا؟ أأنت أعلم منه؟ ہمارے سینوں کی باتوں کو نہیں جانتا؟ کیا تم اس فلا تكن من المستعجلين۔سے زیادہ جانتے ہو؟ پس جلد با زمت بنو۔يا أخي! ما تركت السبيل اے میرے بھائی ! میں نے راہ ( حق ) نہیں ومــا عــاصيـت الرب الجلیل چھوڑی اور نہ ہی میں نے رب جلیل کی نافرمانی وليس كتابنا إلا الفرقان کی ہے۔فرقانِ کریم کے سوا ہماری کوئی کتاب الكريم وليس نبينا ومحبوبنا نہیں اور رحیم مصطفیٰ (ع) کے علاوہ ہمارا إلا المصطفى الرحيم ولعنة کوئی نبی اور محبوب نہیں۔اللہ کی لعنت ہو ان الله على الذين يخرجون عن لوگوں پر جو آپ کے دین سے ذرہ برابر بھی دينه مثقال ذرة فهم يدخلون باہر نکلتے ہیں۔وہ لوگ ملعون ہو کر جہنم میں جهنم ملعونين۔ولكن داخل ہوں گے لیکن اے میرے بھائی ! اللہ کی يا أخي إن في كتاب الله کتاب قرآن کریم ) میں ایسے ایسے نکات نكاتا ومعارف لا يزاحمها اور معارف ہیں کہ کوئی عقیدہ ان کے مقابلے پر عقيدة ولا يناقضها حكم ٹھہر نہیں سکتا اور کوئی حکم اس کو تو ڑ نہیں سکتا۔K