توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 34
توہین رسالت کی سزا ( 34 )- قتل نہیں ہے اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی نرمی اور عفو درگزر کی شہادت مہیا فرمائی ہے۔کیونکہ رسول اللہ صلی الہ علم کی زندگی کی ہر ادا عفو و در گزر پر استوار رہی ہے۔ان آیات کے ہوتے ہوئے شاتم رسول کے قتل کے مدعی کیا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ان گواہیوں کو رڈ فرما دیا تھا؟ کیا نعوذ باللہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ان شہادتوں کو جھٹلا دیا تھا اور ہر موقعے پر قتل و خون کا مظاہرہ کیا تھا؟ ہر گز نہیں۔خدا کی قسم! ایسا ہر گز نہیں تھا۔رسول اللہ نام پر قتل وغارت گری کا الزام لگانے والے خود جھوٹے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے برعکس ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وو ” وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْى هُمْ يَنتَصِرُونَ ، وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (الشوری:40،41) ترجمہ : اور وہ جن پر جب زیادتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔اور بدی کا بدلہ ، کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے۔پس جو کوئی معاف کرے بشر طیکہ وہ اصلاح کرنے والا ہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔یقینا وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔رسول اللہ صلی ا یکم کواللہ تعالیٰ نے جو تعلیم دی اس میں کسی قسم کی زیادتی اور ظلم کا شائبہ تک نہیں۔مثلاً یہ کہ بدی کا بدلہ اگر چکانا ہے تو اس بدی کے برابر بدلہ لیا جائے۔حتی کہ جنگوں اور لڑائیوں میں بھی ” وَلاَ تَعْتَدُوا کہ زیادتی نہ کرو، کا حکم ہمیشہ غالب رہا۔آپ کو یہ فرمایا گیا کہ بدی کا بدلہ بدی کے برابر ہی ہو گا لیکن اگر عفو اور اصلاح مد نظر رہے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔ایسی تعلیم رکھنے والے، ایسی تعلیم دینے والے اور اس پر ہمیشہ عمل کرنے اور کرانے والے پر یہ الزام دینا کہ وہ گالی دینے والے کو جب تک قتل نہ کروا لیتا تھا اس وقت تک اسے چین نہ آتا تھا، کھلا کھلا بہتان ہے۔