توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 33 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 33

توہین رسالت کی سزا { 33 ) قتل نہیں ہے رؤف در حیم نبی صلی الله یم ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ملی لی یم کی تو فطرت ہی خیر خواہی اور عفو و رحمت کے خمیر سے اٹھائی گئی تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کی گواہی مہیا کرتے ہوئے فرماتا ہے: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ( التوبہ : 128) ترجمہ : یقیناً تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا۔اسے بہت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اُٹھاتے ہو ( اور ) وہ تم پر ( بھلائی چاہتے ہوئے ) حریص (رہتا) ہے۔مومنوں کے لئے بے حد مہربان ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔رسول اللہ صلی ایم کی زندگی کا لمحہ لمحہ شاہد ہے کہ آپ بنی نوع انسان کے لئے آسانیاں چاہنے اور ان کا انتظام کرنے والے تھے۔انسان کی مشقت اور تکلیف آپ پر شاق گزرتی تھی۔اس جذبے ہی کی تجلی تھی کہ آپ کا دامن رافت و رحمت ساری کائنات پر دراز تھا۔کسی پر سختی کرنا آپ کے لئے ناممکن تھا۔اللہ تعالیٰ مزید ارشاد فرماتا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرُهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّين" (ال عمران:160) ترجمہ: پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تو ان کے لئے نرم ہو گیا۔اور اگر تو تند خُو ( اور ) سخت دل ہو تا تو وہ ضرور تیرے گر د سے دُور بھاگ جاتے۔پس ان سے در گزر کر اور ان کے لئے بخشش کی دعا کر اور (ہر ) اہم معاملہ میں ان سے مشورہ کر۔پس جب تو ( کوئی ) فیصلہ کر لے تو پھر اللہ ہی پر تو کل کر۔یقینا اللہ تو گل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔