توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 35
توہین رسالت کی سزا { 35 ) قتل نہیں ہے اس زیر بحث آیت کا ذکر قبل ازیں مَنْ يُحَادِد والی آیت میں بھی گزر چکا ہے۔اس جگہ صرف اتنی عرض ہے کہ اس میں بدلہ لینے کا بھی ذکر ہے کہ وہ جن پر جب زیادتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔وہ بدلہ کیا ہے ؟ اور رسول اللہ صلی اللی یکم نے اس بدلے کا کیا نمونہ پیش فرمایا؟ چنانچہ جب ہم آپ کی پاک سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو پہلو تھے۔ایک یہ کہ سب کو بیک جنبش زبان معاف کر دیا اور دوسرے یہ کہ آپ نے نیکیوں، بھلائیوں اور خیر کے کاموں میں ان مخالفوں سے آگے سے آگے بڑھنے کی سعی فرمائی۔ان کی بہبود کے کاموں میں احسان کے تمام پہلوؤں کو بروئے کار لائے۔یعنی ظلم کا انتقام عفو ، احسانات اور نیکیوں میں سبقت کے ذریعے لیا۔بار بار تعلیم عفو و احسان درج ذیل آیات میں رسول اللہ صلی علیم کو اللہ تعالیٰ نے اذیت دینے والوں، بد زبانی کرنے والوں وغیرہ سے اعراض اور ان کے سب و شتم پر بار بار صبر ، صرف نظر ، عفو اور احسان کی تعلیم دی ہے۔فرمایا: " وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى“ (البقرہ: 238) ترجمہ: اور تمہارا عفو سے کام لینا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔خُذِ الْعَفْوَ وَ أْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ “ (الاعراف:200) ترجمہ : عفو اختیار کر اور معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔وو الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّمَاءِ وَالضَّرَاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ( ال عمران: 135 ) ترجمہ : ( یعنی وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں