توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 30 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 30

توہین رسالت کی سزا { 30 ) قتل نہیں ہے بغاوت ہے۔جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اور امر واقع بھی یہی ہے کہ کسی کو قتل کرنے کی قرآن کریم نے انتہائی سختی سے ممانعت کی ہے۔مگر انسانوں اور انسانیت کے دشمن توہین رسول کا نام نہاد مسئلہ کھڑا کر کے یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ محض فتنہ پر دازی کے سبب کسی کو قتل کر دیتے ہیں اور اس پر یہ الزام دھر دیتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صل اللی کم کی توہین کی تھی۔حالانکہ مقتول عملاً آپ سے محبت کرنے والا ہوتا ہے۔یہ ظالمانہ نتیجے ہیں جو ایسے خوفناک منافی اسلام عقیدے کی وجہ سے فی زمانہ کثرت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی علیکم، اسلام اور قرآن کریم پر بے تحاشہ باتیں اور الزام تراشیاں ہوتی ہیں۔اس سے اسلام کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے اور پہنچ چکا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ مومنوں کو عمداً قتل کرنے کی انتہائی تحدید کرتے ہوئے فرماتا ہے: پر وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً (النساء:94) ترجمہ : اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے۔وہ اس میں بہت لمبا عرصہ رہنے والا ہے۔اور اللہ اس پر غضبناک ہوا اور اس لعنت کی، اور اس نے اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔اس آیت میں جہنم، غضب، لعنت اور عذاب عظیم وغیرہ تمام سزائیں مذکور ہیں۔ان کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ قتل کرنے والوں سے سخت اور انتہائی ناراضگی کا اظہار فرماتا ہے۔اس سے یہ مسئلہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جب یہ لوگ اذیت والی آیت پر یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ چونکہ وہاں عذاب کا ذکر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے قتل کیا جانا ضروری ہے۔وہ اسی دلیل کو یہاں قاتل پر کیوں لاگو نہیں کرتے ؟ یہاں تو مزید زور اور سختی سے قتل کرنے والے پر لاگو کرنی چاہئے کیونکہ یہاں جہنم ، غضب، لعنت اور عذاب عظیم جیسے شدید