توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 31 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 31

توہین رسالت کی سزا { 31 ) قتل نہیں ہے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ان غضبناک اظہارات کے باوجود قاتلین کو موت کی سزا نہیں دی جاتی۔بلکہ انہیں الٹا مجاہد اور ہیر و قرار دیا جاتا ہے۔کیا یہ رسول اللہ صلی علیم اور آپ کی شریعت کے ساتھ مذاق اور استہزاء نہیں ہے؟ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے فرمودات اور رسول اللہ صلی علیم کی پر رحمت سنت کی توہین نہیں ہے ؟ جس کا آج کے خونخوار نام نہاد علماء گلی گلی قریہ قریہ ارتکاب کر رہے ہیں۔سنگین سزاؤں میں بھی معافی کی گنجائش اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محاربت اور فساد و بغاوت ایسے قومی جرم ہیں کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سخت سے سخت سزائیں تجویز فرمائی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَاداً أَن يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذُلِكَ لَهُمْ خِنْيٌّ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ هِ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيم (المائد 34: 35) ترجمہ : یقیناً اُن لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہے کہ انہیں سختی سے قتل کیا جائے یا دار پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں دیس نکالا دے دیا جائے۔یہ ان کے لئے دنیا میں ذلت اور رسوائی کا سامان ہے اور آخرت میں تو ان کے لئے بڑا عذاب ( مقدر) ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو اس سے پیشتر تو بہ کر لیں کہ تم ان پر غالب آجاؤ۔پس جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔