توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 29 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 29

توہین رسالت کی سزا ( 29 )- قتل نہیں ہے خاص مکتب فکر کے فقہاء کے اپنے فیصلے ہوں گے مگر ہیں واضح طور پر منافی احکام الہی۔کیونکہ اس سے منافق تو پید اہو سکتے ہیں، سب و شتم کا مداوا نہیں ہو سکتا۔یعنی جو شخص اپنی موت کے ڈر ، مسلمان ہو گا ، وہ لازماً بنیادی طور پر اپنے اندر نفاق کی جڑیں رکھتا ہو گا۔اللہ تعالیٰ اس طرح اسلام قبول کرنے کی کسی جگہ، کسی وقت اور کسی طور پر اجازت دیتا ہے نہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔بلکہ واضح طور پر ممانعت فرماتا اور مکمل حوصلہ شکنی کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ނ ہے: وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعاً أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ“ (یونس: 101 100) ترجمہ : اور اگر تیر ارب چاہتا تو جو بھی زمین میں بستے ہیں اکٹھے سب کے سب ایمان لے آتے۔تو کیا تو لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے۔حتٰی کہ وہ ایمان لانے والے ہو جائیں۔اور کسی نفس کو اختیار نہیں کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ۔اور وہ ان کے چہروں ) پر جو عقل سے کام نہیں لیتے ( ان کے دل کی ) پلیدی تھوپ دیتا ہے۔پس کسی کو کسی بھی بہانے سے جڑ ا مسلمان بنانا اسلام کی بنیادی تعلیم کے منافی ہے۔مومن کا قتل اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی مومن کا قتل گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔اس وقت دنیا میں عملاً یہ ہو رہا ہے کہ اس گناہ کے مرتکب متشد دلوگ کسی پر بھی شتم رسول کا جھوٹا الزام دے کر اسے قتل کر دیتے ہیں۔یہ زمین میں فساد پیدا کرنے اور کشت وخون کے دروازے کھولنے کا کھلا کھلا عمل ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور رسول اللہ صلی علیم کی سنت اور اس کے فرمودات سے واضح