توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 391
توہین رسالت کی سزا { 391 ) قتل نہیں ہے گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہو گئی، اس کی جگمگاہٹ نور کی مانند تھی۔اس کے ہاتھ سے کر نہیں نکلتی تھیں اور اس میں اس کی قدرت نہاں تھی۔“ (حبقوق باب 3 آیت 3,4) ( تیمان۔فدک کے پاس ایک وادی ہے۔اسے تیاء کہتے ہیں۔مسجد میں بھی اس نام کا ایک مقام ہے۔) اس پیشگوئی میں رسول اللہ صلی اللی کم پر درود و سلام کا ایک عظیم منظر بتایا گیا ہے۔وہ منظر پر یہ ہے کہ ویسے تو اللہ تعالیٰ اور کائنات کے چپے چپے پر مامور اس کے فرشتوں کا درودو سلام ہی آسمان و زمین کو حمد سے بھر دیتا ہے۔لیکن مومنوں کے درود و سلام سے بھی اس زمانے میں ہر لمحے زمین و آسمان بھر چکے ہیں۔آج افراد جماعت احمد یہ دنیا کے ہر خطے میں موجود اپنے آقا و مولی حضرت محمد مصطفی ملی لی ایم پر صبح و مساء درود و سلام بھیج رہے ہیں۔دن رات کی آمد ورفت یا سورج کے طلوع و غروب کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہر حصے میں لمحے لمحے پر درود و سلام چلتا رہتا ہے۔یعنی اگر کرہ ارض پر ایک جگہ سورج کے غروب کے ساتھ نماز مغرب کی ادائیگی ہو رہی ہے تو اس سے اگلے علاقے میں چند لمحوں کے بعد نماز مغرب ہو رہی ہوتی ہے اور یہ نماز رفتہ رفتہ آگے سے آگے چلتی جاتی ہے۔اسی طرح پیچھے عشاء کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ بھی اسی طرح آگے روانہ ہونے لگتی ہے۔اس طرح ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری اور بعینہ سب نمازیں ایک دوسرے کے پیچھے پوری دنیا میں رواں دواں ہوتی چلی جاتی ہیں۔پھر ان کے علاوہ تہجدوں ، دیگر نمازوں، سنتوں اور نوافل وغیرہ کے علاوہ ذکر اذکار میں درود و سلام چلتا رہتا ہے۔یہ ایسا الہی نظام ہے جو ایک لمحہ بھی نہ معطل ہوتا ہے نہ رکتا ہے ، نہ رک سکتا ہے۔ان عملی حقیقتوں کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں کہ رسول اللہ صلی ایام تک کسی کی تو ہین پہنچ سکے۔اللہ تعالیٰ نے ازل سے ابد تک کے لئے آپ کو درود و سلام اور حمد و تعریف کی