توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 392
توہین رسالت کی سزا 392 | قتل نہیں ہے آہنی فصیلوں میں محفوظ کر دیا ہے۔تو ہین اور رسول اللہ صلی ال یکم کی تکریم و تعظیم کے درمیان ہر ہر لمحہ جاری کروڑوں درودو سلام کا ایسا بند باندھ دیا ہے ، ایک ایسی فصیل کھڑی کر دی ہے جو ہر تو ہین و استہزاء کو آپ تک آنے سے روک دیتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جب کفارِ مکہ نے رسول اللہ صلی علیم کی تحقیر اور تخفیف بلکہ آپ کی اذیت کے لئے کیا کچھ نہ کیا تھا، مگر کیا ان سے رسول اللہ صلی الم کی توہین ہو گئی تھی ؟ کیا اس دور کے بعد اب تک ایسا کرنے والوں کی بدزبانیوں کی وجہ سے آپ کی تو ہین ہو گئی تھی ؟ کیا اب ہو سکتی ہے؟ یا آئندہ ہو سکے گی؟ ہر گز نہیں اور ہر گز نہیں۔لیکن ان سوالوں کا جواب جو خو د سیّد المعصومین ، اطہر المطہرین، اکرم المکرمین ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی ال یکم نے دیا تھا، وہ کیسا سچا اور عظمتوں کی معراج پر مبنی تھا۔آپ نے فرمایا: ” اَلَا تَعْجَبُوْنَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ ، يَشْتِمُونَ مُذَمَّهَا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّبًا وَ أَنَا مُحَمَّدٌ۔“ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب ما جاء فی اسماء رسول اللہ صلی علی کی کیا یہ تمہارے لئے تعجب خیز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مجھ سے قریش ( یعنی کفار ) کی گالیوں اور ان کی لعنت کو دور رکھتا ہے۔وہ تو مذ تم کو گالی دیتے ہیں اور مذ تم پر لعنت کرتے ہیں مگر میں تو محمد ہوں ( کیلی کم)۔اپنی جس محبوب اور پاک ذات کو اللہ تعالیٰ نے محمد بنایا، محمد قرار دیا اور محمد ثابت فرمایا (صلی ال) ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی توہین ہوتی ہے ، بذاتِ خود ایک جھوٹ ہے، ایک توہین آمیز خیال ہے۔رسول اللہ صلی ا یکم کی نہ توہین ہو سکتی ہے نہ کوئی ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اگر کوئی اللہ تعالیٰ پر بد زبانی کرتا ہے اور اس کی اس بد حرکت سے اللہ تعالیٰ کی توہین نہیں ہوتی، کوئی سورج یا چاند پر بد زبانی کرتا ہے تو ان کی توہین نہیں ہوتی۔اسی طرح اگر کوئی