توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 390
توہین رسالت کی سزا 390 | قتل نہیں ہے حرف آخر توہین رسالت کی حفاظت کا الہی نظام اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) کہ یقینا اللہ اور اس کے فرشتے نبی "پر رحمت بھیجتے ہیں۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام قارئین کرام! وہ کیسا عالی مرتبت، عظیم الشان ، بے نظیر ، ارفع و اعلیٰ اور وہم و گمان سے بر تر وجو د ہے جس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں۔جس پر اللہ تعالیٰ مومنوں کو بھی درود و سلام بھیجنے کی تلقین کرتا ہے کہ وہ بھی اس پر درود وسلام بھیجیں۔کائنات میں ہر جگہ موجود اللہ تعالیٰ کے درود و سلام اور کائنات کی وسعتوں میں پھیلے ہوئے فرشتوں کے درود و سلام کے ساتھ اس کرہ ارض کے طول و عرض میں مقیم مومنوں کے درود و سلام کے ہوتے ہوئے چند گندے اور بد زبان لوگوں کی توہین معنے ہی کیا ر کھتی ہے ؟ اس کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے ؟ اس پاک نبی کے پاک وجود اور پاک ذات اور پاک ذکر کو جس طرح درود و سلام نے ہر جانب سے اور ہر وقت اپنے ہالے میں ، اپنے گھیرے میں اور کروڑ در کروڑ غلافوں میں لپیٹا ہوا ہے وہاں کسی کی توہین داخل کیسے ہو سکتی ہے ؟ کائنات کی وسعتوں پر پھیلا ہو ا درود و سلام کس طرح کسی سب و شتم اور توہین و تنقیص اُس پار جانے دے سکتا ہے ؟ عقل اس کا جواب دینے سے قاصر ہے۔درود و سلام کی اس تجلی یا تقدیر کا ایک منظر وہ بھی ہے جو آج سے اڑ ہائی ر تین ہزار سال پہلے اسرائیلی نبی حضرت حبقوق علیہ السلام نے آنحضرت صلی الم کے لئے اس فصیل درود و سلام کی تجلیات کا مشاہدہ کرتے ہوئے ایک پیشگوئی کی تھی۔اس پیشگوئی میں انہوں نے یہ ذکر فرمایا تھا کہ : ”خدا تیمان سے آیا اور قدوس کوہِ فاران سے اس کا جلال آسمان پر چھا