توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 382 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 382

توہین رسالت کی سزا سنت یہ 382 } قتل نہیں ہے ، یہ تھی کہ آپ نے اپنے جانی دشمنوں کی جانوں کی بھی حفاظت فرمائی اور انہیں زندگی کی حقیقی قدریں بھی عطا فرمائیں۔یہ آپ کی عزت و عظمت کی روشن دلیل ہے۔آپ انسان کو زندگی بخشنے کے لئے آئے تھے ، ان کی جان نکالنے کے لئے نہیں۔پس محمد رسول اللہ صل الم کی عزت دنیا کو زندگی دینے میں ہے نہ کہ اس کی موت کی خواہش کرنے میں۔اس تناظر میں توہین رسول صلی ال نیم کے حقیقی انتقام کے لئے مسلمانوں کو ایک عزم باندھنے اور ایک عہد کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ بہادر وہ نہیں جو غصے سے مغلوب ہو کر لڑ پڑتا ہے وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب جاتا ہے۔بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اس کو پورا نہ کرلے اس سے پیچھے نہیں ہوتا۔پس ضرورت ہے کہ ناموسِ رسول کی حفاظت اور اسلام کی ترقی کے لئے اپنے دل میں کم از کم ان چار باتوں کا عہد کیا جائے۔اول ہم دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے اور قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں گے۔دوم یہ کہ ہم خود تبلیغ اسلام میں پوری دلچسپی لیں گے اور اس کام کے لئے اپنی جان ، اپنے مال اور وقت کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔سوم ملک میں دیگر غیر مذاہب والوں سے اسوۂ رسول صلی الیکم کے مطابق پچہتی اور اتحاد کا سلوک کریں گے۔تاکہ وہ ہمارے محبت بھرے سلوک سے رسول اللہ صلی علیم کے ممنون احسان ہوں کہ آپ کی تعلیم ہمیں ایسا نمونہ پیش کرنے کا سبق فراہم کرتی ہے۔(۵ جلسہائے سیرت النبی صلی علیم کا قریہ قریہ، شہر شہر اور ملک ملک میں اجراء کیا جائے۔رسول الله صلى العلم رحمۃ للعالمین تھے۔جیسے سورج تمام عالم پر برابر چمکتا ہے ، اسی طرح رسول اللہ