توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 358 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 358

توہین رسالت کی سزا اراد ہ قتل کے مجرم کو معافی اور دعا: 358 | قتل نہیں ہے ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر خانہ کعبہ کے طواف کے وقت ایک شخص فضالہ بن عمیر رسول اللہ صلی ا لی ایم کے قتل کے ارادے سے آپ کے قریب آیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے ناپاک ارادے سے آپ کو مطلع فرما دیا۔آپ نے اسے بلایا اور پوچھا کہ وہ کس ارادے سے آیا تھا؟ جو ابا اس نے جھوٹ بول دیا۔آپ نے مسکرا کر اسے قریب بلایا اور بڑی ملائمت سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا اور اسے مزید کچھ نہ کہا۔فضالہ بعد میں کہتا تھا کہ رسول اللہ صل اللی کلم نے جب اس کے سینے پر ہاتھ رکھا تو اس کی تمام تر نفرت عنقا ہو گئی۔وہ اس وقت اسلام قبول کر کے آپ کے دامن رحمت سے وابستہ ہو گیا۔(ابن ہشام جزو 4 صفحہ 20 قصة اسلام فضالہ۔غزوہ فتح حمایت ) حقیقت یہ ہے کہ یہ شاندار کامیابیاں آپ کے عفو و در گزر ، لطف و کرم، حسن اخلاق ، للہیت اور دعا کی مرہونِ منت تھیں۔نیز اس حکمت عملی کا ثمر شیریں تھیں جو اذعم إلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ “ (النحل: 126 ) کے ارشادربانی پر مبنی تھی کہ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے۔آپ نے اس الہی حکم کی کماحقہ تعمیل کی اور کروائی۔اسی حربے سے رسول اللہ صلی لی ایم نے بے شمار لوگوں کو ہلاکتوں سے نکال کر ان کے لئے اخروی نجات کے سامان فرما دیئے۔سچ یہ ہے کہ گستاخی کرنے والوں کو قتل کر کے کبھی کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔جبکہ انہیں معاف کرنے سے اور ان پر دامن بخشش دراز کرنے سے بہت کچھ حاصل ہوا۔کیونکہ تلوار جسم کو تو کاٹ دیتی ہے ، کفر اور نفاق کو نہیں کاٹ سکتی۔کفر و نفاق کو لطف و کرم، رحمت و دعا اور