توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 357
توہین رسالت کی سزا ( 357 ) قتل نہیں ہے قتل سے ہاتھ روکو: فتح مکہ کے دوسرے روز رسول اللہ صلی الی یم نے ایک بار پھر بڑے سبق آموز اور جلالی رنگ میں قتل و غارت کے بد نتائج سامنے رکھتے ہوئے اس سے کلیہ ہاتھ اٹھا لینے کا ارشاد فرمایا کہ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ عَنِ الْقَتْلِ ، فَقَدْ كَثُرَ الْقَتْلُ إِنْ نَفَعَ۔(ابن ہشام و السيرة الحلبيه غزوہ فتح مکہ) کہ قتل سے اپنے ہاتھ روکو۔قتل تو بہت ہو چکا لیکن کیا اس نے کبھی کوئی فائدہ بھی دیا؟ یہ حکم صرف گنے کی فتح کے ایام تک محدود نہ تھا۔یہ انسان کے لئے ایک حیات افزا دائمی پیغام ہے جو قیامت تک انسانی خون کو ضیاع سے بچانے والا ہے۔آپ کے اس حکم نے رہتی دنیا تک یہ سچائی قائم فرما دی ہے کہ کشت و خون نے کبھی نفع نہیں دیا۔اس نے ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے۔بلکہ دنیا میں انسان اور انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان قتل و غارت ہی نے پہنچایا ہے۔رسول اللہ صلی علی کریم نے بڑے واضح اور پر انذار الفاظ میں دنیا کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اس قطعی زیاں رساں عمل سے پر ہیز اور گریز کی نصیحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے تھے کہ میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی۔جب اس کا ماحول روشن ہو گیا تو پتنگے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے۔وہ ان کو آگ سے پرے ہٹانے لگا مگر وہ اس پر غالب ہونے لگے۔پس میں تمہیں تمہارے کمر بند سے پکڑ پکڑ کر بچاتا ہوں اور تم اس میں گر گر پڑتے ہو۔( بخاری کتاب الرقاق باب الانتهاء عن المعاصی) آپ انسان کو تباہی اور ہلاکت سے بچانے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے اور آپ نے ہر ایسی تعلیم پیش فرمائی جو اسے تباہی اور قتل و خون سے بچانے والی تھی۔