توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 359 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 359

توہین رسالت کی سزا 359 | قتل نہیں ہے حسن و احسان کی دھار کاٹتی ہے۔مگر جس پر یہ دھار چلتی ہے وہ در حقیقت شربت وصل و بقا پی لیتا ہے اور ابدی زندگی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔آنحضرت صلی الم کے عفو و در گزر کی یہ محض چند مثالیں ہیں جو آپ نے سالہا سال کے جانی دشمنوں پر سائبان کی طرح تانے رکھا۔اس نوع کے واقعات آپ کے ذریعے دن رات اور صبح و شام ظاہر ہوتے تھے۔اپنوں کی غلطیاں معاف کرنے، محبت و شفقت، اُلفت و رافت کے ساتھ ان کی تربیت کرنے اور تزکیۂ نفس کے لئے کوشاں رہنے کے واقعات بھی آپ کی زندگی کے لمحے لمحے کے ساتھ منسلک تھے۔آپ اپنے جانی دشمنوں سے عفو و در گزر کرنے والے بھی تھے اور ان کے لئے رؤوف ورحیم بھی۔قتل پر شدت درد: فتح مکہ کے بعد قبائل عرب کی اسلام کی طرف رغبت کا خاص ماحول تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی علیم نے عرب کے مختلف قبائل کی طرف تبلیغی وفود بھیجے۔بنو کنانہ کی شاخ بنو جذیمہ جو مکہ کے قریب فیملم کی جانب آباد تھے۔آپ نے حضرت خالد بن ولید کو ان کی طرف اسلام کی اطاعت میں آنے کے پیغام کے ساتھ بھجوایا۔یہ ایک خالص تبلیغی نیز انہیں اسلامی حکومت کے تحت لاکر امن اور حفاظت مہیا کرنے کی مہم تھی۔لیکن ان انقلابی حالات میں بنو جذیمہ کی طرف سے رد عمل کے خدشے سے رسول اللہ صلی یکم نے تین سو پچاس افراد کی فوج بھی ان کے ہمراہ بھجوائی۔ان میں مہاجرین و انصار کے ساتھ بنو سلیم کے افراد بھی تھے۔(ابن سعد سریۃ خالد بن ولید الی بنی جذیمہ وزرقانی سر یہ حضرت خالد بن ولید الی بنو جذیمہ ) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ جو اس سریے میں شامل تھے ، بیان فرماتے ہیں: ”ان لوگوں نے بنو جذیمہ کو اسلام کی اطاعت میں آنے کی دعوت دی۔انہوں نے اس دعوت کو قبول کیا لیکن