توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 354 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 354

توہین رسالت کی سزا 354 } قتل نہیں ہے تشبیب کہہ کر اور رجزیہ اشعار پڑھ پڑھ کر رسول اللہ صلی للی کم کی توہین کا مر تکب ہوا۔اعل' ہبل کے نعرے لگواکر وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں بھی گستاخی کا مر تکب ہو چکا تھا۔رسول اللہ صلی لی ایم کے مکے کے لئے خروج سے دوچار روز قبل ہی وہ مدینے آیا تھا اور آپ سے مل کر بھی گیا تھا۔پھر فتح مکہ کی مہم کے دوران وہ حضرت عباس کو ساتھ لے کر مر الظہر ان کے مقام پر بھی آپ سے ملا۔آپ کے لئے یہ ایک نادر موقع تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ، اپنے اور اسلام کے اس شدید ترین دشمن کو فوراً قتل کروا دیتے۔مگر آپ نے اسے قتل نہیں کر وایا۔آپ نے اسے کلیہ معاف کر دیا۔دورانِ گفتگو آنحضرت صلی اللہ ہم نے اُس سے پوچھا: ” اب بھی خدا کے سوا کسی اور معبود کو مانتے ہو ؟“ اس نے جواب دیا: ” اگر خدا کے سوا ہمارے یہ بت بھی کوئی 'لاہوتی ، مقام رکھتے تو ہمارا یہ حال نہ ہو تا جو ہوا ہے۔“ پھر آپ نے پوچھا: ”میرے رسول ہونے میں اب بھی کوئی شک باقی ہے ؟“ اس نے جواب دیا : ” ابھی دل میں اطمینان نہیں۔“ آپ نے اس پر کوئی سختی نہیں فرمائی۔حالانکہ وہ آپ کے قبضہ و قدرت میں تھا لیکن حوصلہ ، رحمت اور عطا کی اداد یکھیں کہ فرمایا: ” اچھا سوچو اور اطمینان کی راہیں تلاش کرو۔“ پھر آپ نے اس کے اس تذبذب کے با وجو د اس کے گھر کو پناہ گاہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ جو لوگ سر دار مکہ ابوسفیان کے گھر پناہ لے گا اُسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔یہ تھے ہمارے رحیم و کریم رسول اللہ صلی علیکم۔جن کے عفو و کرم کے واقعات پر تاریخ عالم حیرت زدہ ہے۔آپ نے اپنی سیرت طیبہ اور پاک اخلاق کے ذریعے مکے کے سر داروں اور عام لوگوں کے دل اس طرح موہ لئے کہ سالوں کی دشمنیاں پل بھر میں محبت اور فدائیت میں بدل گئیں۔پھر یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد بن کر اسلام کے سچے خادم اور رسول اللہ صلی علیکم