توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 355
توہین رسالت کی سزا 355 }- قتل نہیں ہے کے جانثار فدائی بنے۔انہوں نے اسلام کی اشاعت اور دین کے استحکام کے لئے ایسی ایسی قربانیاں پیش کیں کہ تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔پس یہ کہنا کہ آپ تو ہین کرنے والوں کو قتل کرواتے تھے ، سفید جھوٹ ہے۔آپ بد سے بدترین دشمن کو بھی سایہ بخشش میں لے کر اسے زندگی بخش جام پیش فرماتے تھے۔کیونکہ آپ انسانیت کے اور انسان کے خون کے سب سے بڑے محافظ تھے۔سزا یافتگان کی معافی: مختلف الانواع قومی و انسانی جرائم اور قصاص کے سزاوار مجرم جن کے لئے رسول اللہ صلی ایم نے سزائے موت کا حکم دیا تھا، حسب ذیل تھے۔عبد العزی بن خطل، اس کی دو داشتائیں، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح، عکرمہ بن ابی جہل، ہبار بن آسود، حارث بن نفیل، سارہ جو بنو عبد المطلب میں کسی کی لونڈی تھی، مقیس بن صابه کتب تاریخ میں مذکورہ بالا افراد کے علاوہ اُسید بن ایاس، وحشی بن حرب ، ہند بنتِ عتبہ زوجہ ابوسفیان، حارث بن ہشام، زہیر بن امیہ ، صفوان بن امیہ اور مشہور شاعر کعب بن زہیر کے اسماء بھی درج ہیں۔ان کتب میں ان مؤخر الذکر افراد کے بارے میں آنحضرت صلی یی کم کا واضح طور پر حکم تو نہیں ملتا مگر یہ ضرور نظر آتا ہے کہ ان میں سے بعض سردارانِ قریش تھے اور بعض کے جرائم ایسے تھے کہ وہ خود خوف زدہ تھے کہ ان کو قتل کر دیا جائے گا یا ان کے بارے میں بھی قتل جاری ہو جائے گا اس لئے وہ بھی امان کے طالب ہوئے۔یہ آپ کے دامن رحمت کی وسعت تھی کہ باوجود اس کے کہ ان پر حکم قتل جاری ہو چکا تھا ان میں سے جس نے