توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 353 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 353

توہین رسالت کی سزا { 353 ) قتل نہیں ہے یہ مستند تاریخی ریکارڈ شاہد ہے کہ عکرمہ کو یہ معافی دیگر جرائم کے علاوہ سب و شتم پر بھی دی گئی۔آپ کو واضح طور پر علم تھا کہ عکرمہ آپؐ کے خلاف بد زبانی کیا کرتا تھا۔آپ نے اسے بھی دعا ہی دی تاکہ اس کے دل پر ندامت و غیرہ کا کسی قسم کا کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے اور وہ شرح صدر کے ساتھ اور امن و سلامتی کی ضمانت کے ساتھ اسلام میں قدم رکھے۔ایسے بے نظیر رؤوف و رحیم ، وسیع الظرف اور لا متناہی حوصلے والے رسولِ رحمت و کرم صلی ال نیم کے متعلق یہ کلمات زبان یا قلم سے نکالنا کہ آپ سب و شتم کرنے والے کو قتل کرواتے تھے ، بذاتِ خود آپ کی توہین ہے۔آپ کی طرف یہ ایک ایسی منفی اور ظالمانہ بات منسوب کی جاتی ہے جو آپ نے کبھی نہیں کی۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم نے گالی گلوچ کے بارے میں ایسا ذکر کسی اور کے لئے نہیں فرمایا جیسا عکرمہ کے لئے فرمایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب و شتم میں وہ دیگر شا تمین سے دو ہاتھ آگے بڑھا ہوا تھا اور ان میں سے وہ ایسا تھا جس کے لئے عفو خاص کے ساتھ مغفرت و بخشش کی دعا کی ضرورت تھی۔پس آپ کے اس عمل سے ان لوگوں کے دلائل کا حتمی طور پر رڈ ہوتا ہے جو ہر ایک پر سب و شتم کا الزام عائد کر کے اس کے قتل کو اپنے غلط عقائد کے ثبوت کے لئے پیش کرتے ہیں۔عدو مبین پر سائبانِ رحمت و کرم: ابوسفیان بن حرب بھی شدید معاندین بلکہ ائمۃ الکفر میں سے تھا۔مخالفت اور دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔جنگ بدر کے بعد وہ دوسو سواروں کے ساتھ چھپ کر آیا اور اس نے مدینے کے یہودیوں کے ساتھ ساز باز کی۔دو مسلمانوں کو شہید کیا اور بہت سے مویشی ہانک کر لے گیا۔پھر اُحد اور احزاب کی جنگیں اسی کی سر کردگی میں لڑی گئیں۔جنگوں میں