توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 352
توہین رسالت کی سزا 352 } قتل نہیں ہے جو قربانیاں پیش کیں اس پر تاریخ گواہ ہے۔فَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( تاریخ انمیں، غزوة فتح مگنت، جلد 2، صفحہ 92۔ناشر مؤسسة شعبان للنشر والتوزيع بيروت) رسول اللہ صلی علیم کے عفو و در گزر کا یہ واقعہ دراصل آپ کی بعثت کے مقصد کی ایک بے مثال اور اس کے حسین پہلو کو واضح کرتا ہے کہ آپ ہر قیمت پر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر لوگوں کو راہ ہدایت پر گامزن کرنا چاہتے تھے۔اس کے لئے آپ نے اپنی ذات کو کلیۃ" کا لعدم کر کے ہر بد ترین سے بدترین ظالم اور بڑے سے بڑے بد زبان ہر زہ گو کو بھی معاف فرمایا۔سب جانتے ہیں کہ عکرمہ جو بہت بڑا دشمن اسلام تھا اور اس باپ کا بیٹا تھا جو بنیادی طور پر رسول اللہ صلی علیکم اور آپ کے صحابہ کی تذلیل اور اذیت کا ذمہ دار تھا۔اس کے بارے میں آپ یہ ارشاد فرمارہے ہیں کہ باپ کے حوالے سے اس کے جذبات کا خیال رکھو۔اس واقعے میں رسول اللہ صلی علیم کی انتہائی کریمانہ دعا کو بھی تو ذرا ملاحظہ کریں۔یہ فقرہ پڑھنے والا اور دل پر لکھ لینے والا فقرہ ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”اے میرے اللہ ! تو عکرمہ کی میرے متعلق وہ تمام عداوتیں، دشمنیاں، زیادتیاں اور بُرے بول جو اس نے بولے ہیں، معاف کر دے۔“ یہ دعا کھول کھول کر گواہی دیتی ہے کہ اس نے جو بول بولے تھے ، وہ آپ کے لئے انتہائی تکلیف دہ تھے۔مگر آپ نے اس کی بد کلامی، توہین اور تنقیص پر اسے قتل نہیں کروایا۔بلکہ اپنے فطرتی جذبہ معفو و کرم کی بنیاد پر بغیر کسی تردد یا تکلف کے اسے کلیہ معاف کر دیا۔آپ کا عفو و در گزر ، معافی اور بخشش کی بلندی ہر ظلم و توہین سے ارفع تھی۔چنانچہ جس نے آپ کی تو ہین و تذلیل کی جتنی بھی کوشش کی وہ آپ کے پیمانہ صبر وکرم سے نیچے ہی رہی۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وعَلَى آلِ مُحَمَّدِوَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ