توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 314 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 314

توہین رسالت کی سزا 314} قتل نہیں ہے کو دوبارہ قائم کرتے ہیں، مہمان نوازی اور تکریم ضیف کرتے ہیں اور ضروریاتِ حقہ میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔یہ سب خوبیاں وہ ہیں جو دیگر وسیع اوصاف کی جامع ہیں۔جیسا کہ حضرت خدیجہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ خوبیاں معاشرے سے معدوم ہو چکی تھیں، جنہیں آپ نے ہستی عطا فرمائی، جن کا آپ نے احیائے کو فرمایا۔یہ سب آپ کی جوانی کے دور کے اعمالِ صالحہ اور اوصاف حسنہ ہیں۔یہاں ہر قاری اندازہ کر سکتا ہے کہ جو شخص بچپن اور جوانی کے دور میں ایسے اوصافِ عالیہ سے متصف ہو جو رحمت و کرم کے منبع سے پھوٹ پھوٹ رہے ہوں، وہ اپنی بڑھتی ہوئی عمر میں کیونکر سختی، کشت و خون اور جبر و تشدد کا دلدادہ ہو سکتا ہے۔آپ اپنے دورِ شباب میں خدمتِ خلق کے لئے معاشرے میں ایسی نیکیوں کے قیام کی خاطر اپنے طعام و آرام و سکون تو کیا، تن ، من اور دھن کو قربان کر رہے تھے۔پس آپ پر قتل و خون کے الزام لگانے والوں کو آپ کی طبعی، نفسیاتی اور قلبی کیفیات پر غور کرنا چاہئے اور تو بہ کرنی چاہئے۔آسانی عطا فرمانے والے: روایت ہے کہ ”آپ کو جب بھی دو باتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے جو آسان ہوتی اسے اختیار فرماتے۔لیکن وہ آسان بات اگر گناہ ہوتی تو پھر آپ اس سے سب سے زیادہ نفرت کے ساتھ دور رہنے والے ہوتے تھے۔(مسلم کتاب الفضائل باب مباعد ته اللا شام۔۔۔۔۔)