توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 313 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 313

توہین رسالت کی سزا 313} قتل نہیں ہے سے پہلے حرم میں مقررہ مقام پر تشریف لائے۔جب دوسرے لوگ آئے تو انہوں نے امین امین کہہ کر یہ اقرار کیا کہ وہ سب آپ کے فیصلے پر راضی ہوں گے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے ایساد لنشین فیصلہ فرمایا کہ ہر کوئی عش عش کر اٹھا اور آفرین آفرین کی صدائیں بلند کرنے لگا۔یہ فیصلہ ایسا تھا کہ جس نے بڑی آسانی کے ساتھ ہر ایک قبیلے کی عزت، احترام اور خون کی حفاظت کی اور ان میں امن و سلامتی کی فضا بھی قائم کر دی۔آپ نے حجر اسود کو اپنی چادر پر رکھا اور تمام رؤوسا کو چادر کے کنارے پکڑا دیئے اور انہیں اسے اوپر اٹھانے کو کہا۔جب چادر اس کے رکھنے کی جگہ کے برابر پہنچی تو آپ نے اسے اٹھایا اور دیوار میں اس کی مخصوص جگہ پر رکھ دیا۔(الشنا، فصل فی عدلہا و امانته وعفته وصدق لهجته ، طبری، ابن ہشام، ابن سعد، زرقانی و تاریخ الخمیس) یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی علی یم اپنی جوانی کے دور میں بھی امن و سلامتی اور صلح و آشتی کے خوگر تھے۔آپ قبائل اور معاشرے کو خون خرابے سے بچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔آپ ہر لمحہ انسانیت اور انسانی خون کی حفاظت کی ترکیب فرماتے تھے۔نفع رساں اوصاف حمید و آنحضرت صلی یکم معاشرے میں سب سے زیادہ نفع رساں وجود تھے۔آپ کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت خدیجہ فرماتی ہیں: "إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَ وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِئُ الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلى نَوَابِبِ الْحَقِّ۔“ (بخاری کتاب كيف كان بدء الوحی۔۔۔) کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کو اٹھاتے ہیں ، جو نیکیاں مٹ چکی ہیں ، آپ ان