توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 315
توہین رسالت کی سزا 315} قتل نہیں ہے اپنے نمائندوں کو کسی جگہ بھجواتے تو آپ کی نصیحت ہوتی تھی کہ سسُوا وَلَا تُعَمِّه وا، بشهرُ وا وَلَا تُنفِرُ وا ( بخاری کتاب العلم ماکان رسول الله صل ال توله) که آسائش پیدا کر و اور مشکل پیدا نہ کرو،خوشی پہنچاؤ، نفرت نہ دلاؤ۔آپ کی سب کو نصیحت بھی یہی تھی اور پاک فطرت پر استوار آپ کا اپنا عمل بھی یہ تھا کہ آپ ہمیشہ آسانیاں عطا کرنے اور خوشیاں بانٹنے کی کوشش فرماتے تھے۔بیحد دیالو: آپ سب سے زیادہ سخی تھے۔بھلائی اور سخاوت میں آپ موسلا دھار بارش اور اس میں چلنے والی تیز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار تھے۔(بخاری کتاب بدء الوحی و کتاب الادب باب حسن الخلق والسخا) آپ سے جب بھی کچھ مانگا گیا آپ نے کبھی ”“ یعنی نہ نہیں کہا۔(بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق و السخاو مسلم کتاب الفضائل باب فی سخامه صلى اليوم۔آپ کے ان جبلی اوصاف کو دیکھ کر ایک معمولی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ جو غریبوں اور مسکینوں کے بہبود اور رفاہ عامہ کے لئے ایسی مستقل عادتیں رکھتا ہو وہ انسانوں کے قتل و خون کو کیو نکر پسند کر سکتا ہے؟ سادگی پسند ، حلیم الطبع اور منکسر المزاج: صحیح روایات بتاتی ہیں کہ ”آپ کی زندگی انتہائی سادہ تھی اور آپ ادنیٰ سے ادنی کام کرنے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے تھے۔آپ اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے تھے۔گھر کے کام کاج