توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 253 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 253

توہین رسالت کی سزا { 253 ) قتل نہیں ہے یہودی کا السّامُ عَلَیک کہنا الصارم۔۔۔میں یہ واقعہ تین طرح کی روایتوں کے ساتھ لکھا ہے۔ایک روایت حضرت عائشہ کی بھی ہے۔آپ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس چند یہودی آئے اور کہا: السامُ عَلَيْكَ۔آپ فرماتی ہیں کہ میں سمجھ گئی کہ انہوں نے کیا کہا ہے۔چنانچہ میں نے جواب میں کہا: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، اس پر رسول اللہ صلی یکم نے فرمایا: ”اے عائشہ !ذرا ٹھہرو، إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرَّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِهِ کہ اللہ تعالیٰ بردبار ہے اور ہر کام میں بردباری کو پسند فرماتا ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یارسول اللہ ! جو انہوں نے کہا تھا، کیا آپ نے سنا نہیں؟“ آپ نے فرمایا: ” میں نے بھی تو وَعَلَيْكُمْ کہہ دیا تھا۔“ الصارم۔۔۔۔۔زیر عنوان، تحیۃ الیہود للرسول وصحبہ ، صفحہ 150،151) " معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے اس یہودی کو جواب میں عَلَيْكُم “ کہا تھا جو کسی طرح کتابوں میں وَعَلَيْكُم لکھ دیا گیا ہے۔کیونکہ وَعَلَيْكُم کا معنی و مطلب ہے ” اور تم پر بھی“۔لیکن 'و' کے بغیر عَلَيْكُم کا معنی ہے ”تم پر۔چنانچہ قاضی عیاض اپنی کتاب الشفاء میں جو روایت لائے ہیں ، منطقی اور واقعاتی لحاظ سے وہ زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ ” قال، اِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ اَحَدَكُمْ يَقُولُ اَلسَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا عَلَيْكُمْ “ ( الشفا۔۔۔۔فصل في اسباب عفوم صلى الليلم عن بعض من اذاه مکتبه الغزالی دمشق و دار الفيحاء - الطبعة الاولی 2000ء) کہ رسول اللہ صلی ال ولیم نے فرمایا کہ اگر کوئی یہودی تمہیں سلام کی بجائے السّامُ عَلَيْكُمْ کہے تو تم اسے جواباً علیکم کہہ دیا کرو۔اس میں عَلَيْكُمْ کے ساتھ 'و' نہیں ہے۔واللہ اعلم