توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 252
توہین رسالت کی سزا { 252 ) قتل نہیں ہے کے دیگر واقعات میں سے ایک ایک واقعہ ببانگ دہل ان لوگوں کی تردید کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی یم نے اس خوف کی وجہ سے کسی کو قتل نہ کیا کہ اسلام حالت ضعف میں تھا۔اصل بات یہ تھی کہ آپ کو حکم خداوندی صرف صبر کا تھا۔سچائی کے ساتھ اگر صبر کی طاقت ہو تو وہ ہر دوسری طاقت سے زیادہ طاقتور ہے جو کامیابی سے شرطیہ ہمکنار کرتی ہے۔رسول اللہ صلی یکم کی کامیابی اور فتوحات اس حقیقت کا عملی ثبوت ہیں۔پس رسول اللہ صلی العلیم نے عبد اللہ بن ابی بن سلول وغیرہ توہین کے مر تکب لوگوں کو اسی وجہ سے قتل نہیں کیا تھا کہ تا اس جواز کو ہی ختم کر دیا جائے اور تا ایسا نہ ہو کہ تو ہین اور سب و شتم کرنے والے کو لوگ قتل کرناشروع کر دیں۔رسول اللہ صلی الیم نے عفو و در گز اور صبر ورحمت کے جذبات اور قربانیوں اور دعاؤں کے آنسوؤں کے ساتھ جو بند باندھا تھا، اپنے ہی دوستوں“ نے کمزور اور جعلی روایتوں کے بھالوں سے اس میں حتی الامکان شگاف ڈالنے کی کوشش کی ہے۔رسول اللہ صلی الم کے صبر و ضبط اور عفو و در گزر کے غیر معمولی نمونوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نظر بصیرت ایسے فتنوں کو دیکھ رہی تھی جو آپ ہی کے لئے ایسے جذبات کی بنیاد پر جھوٹے اور ظالمانہ رُخ اختیار کرنے والے تھے۔جن ہتھیاروں سے جہاں انسان پر توہین رسول کے الزام لگا کر قتل و خون کا بازار گرم کیا جانے والا تھا، وہاں انہی ہتھیاروں کے ذریعے اسلام اور مقدس بانی اسلام کی پاک ذات پر حملوں کے لئے غیر مسلموں کی قلمیں اور زبانیں غلاظت اگلنے والی تھیں۔اور آج یہ منظر اپنی پوری جولانی کے ساتھ دنیا کے سامنے ہے۔العیاذ باللہ۔الحفیظ والامان