توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 254 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 254

توہین رسالت کی سزا { 254 ) قتل نہیں ہے لفظ الشام کے معنی 'موت' کے ہیں۔کتب حدیث میں اس مضمون کی مختلف روایات درج ہیں۔نیز تین مختلف روایات الصارم۔۔۔۔۔۔۔میں بھی درج ہیں۔ان سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ایسا واقعہ ایک سے زائد مرتبہ ہوا ہے۔بہر حال یہ ایک بار ہوا یا جتنی بار بھی ہوا ہے ، یہود کی طرف سے ہر بار سخت گستاخی کا مظاہرہ تھا۔رسول اللہ صلی اللی ایم نے ایسا کرنے والے کی الفاظ کی اوٹ میں چھپی نیت کو بھانپ کر اسے ویسا ہی جو اب لوٹایا۔مگر یہ بالکل ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسے نہ قتل کروایا اور نہ ہی کوئی اور سزا دینے کا ارشاد فرمایا۔یہ روایت رسول اللہ صلی ایم کی سیرت کے حسین در بچوں سے صبر ، جذبات غضب پر حیرت انگیز ضبط، عفو و در گزر ، وسعتِ قلبی اور اعلیٰ ظرفی وغیرہ خوبیوں کے دلکش رنگ دکھاتی ہے۔آپ ایک فتح مند ، تمام دنیوی طاقتوں کے جامع اور دنیوی جاہ و جلال کو اپنے قدموں تلے رکھنے والے شہنشاہِ دو عالم تھے جو کسی بھی گستاخ کو کسی بھی نوع کی سزا دینے پر قادر تھے۔مگر قربان جائیں اس صبر وضبط کے عالی مرتبت پیکر پر جو گستاخ کی گستاخی کو بغیر کسی جسمانی گزند کے اس طرح اس کی طرف واپس لوٹا دیتا ہے کہ وہ اسی کے منہ پر الٹ جاتی ہے۔اس کے ساتھ وہ دوسروں کو اس گستاخ پر سختی کرنے سے بھی کلیتہ روک دیتا ہے۔یہ وسیع دل ہے اور یہ پاک نمونہ ہے حبیب کبریا حضرت محمد مصطفیٰ صلی ای کم کاجو دنیا میں تمام انسانیت کی اور ہر انسانی خون کی حفاظت کرنے والا تھا۔مگر افسوس ہے کہ آپ کی پاک سیرت کو چھپانے کے لئے یا اس گستاخ کو سزا نہ دینے یا قتل نہ کرنے کا جو انتہائی لاغر اور فضول جواز پیش کیا گیا ہے ، یہ ہے : " إِنَّ هَذَا كَانَ فِي حَالِ ضُعْفِ الْإِسْلَامِ أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَالَ لِعَابِشَةَ: مَهْلًا يَا عَابِشَةُ ، فَإِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِكُلِهِ (ايضا صفحہ 151:) کہ یہ اسلام کے ضعف کے حال کی بات ہے۔کیا تو یہ نہیں دیکھتا کہ رسول اللہ صلی الم نے حضرت عائشہ سے یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ بردبار ہے اور ہر کام میں بردباری و نرمی کو پسند فرماتا ہے۔