توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 216 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 216

توہین رسالت کی سزا { 216 } قتل نہیں ہے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ عام حالات میں کسی صحابی نے اپنے والدین کے ورثے سے اس وجہ سے انکار کیا ہو کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔پس یہ بات خلاف واقعہ بھی ہے اور انسانی تاریخ کے قائم ، جاری اور مسلمہ قانون سے بھی متصادم ہے۔اُس زمانے کے عمومی حالات یہ تھے کہ اسلام پھیل رہا تھا اور مسلمان ہونے والے اپنے مشرک یا کافر والدین کاور شہ پارہے تھے۔تمام ریاستیں اور ممالک مثلاً بحرین، یمن، شام، نجران و عمان وغیرہ کے یہود و نصاری نیز ایران کے آتش پرستوں میں سے جو مسلمان ہوئے تھے انہوں نے اپنے ماں باپ کا ورثہ پایا تھا۔اس لئے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اللہ صلی ا لم نے ایسی بات فرمائی ہو کہ اس سے تمام عالم کی مسلمہ تاریخ کو بدلنے کا تصور پیدا ہو تا ہو۔آپ کی شان تو یہ ہے کہ آپ اس حد تک محتاط ہیں کہ ہر بات میں سچائی کے تمام تقاضے اعلیٰ معیار پر پورے فرماتے ہیں۔آپ یہ بیان کس طرح دے سکتے ہیں کہ ساری دنیا میں رواج ہے کہ کہیں بھی کوئی ملت دوسری ملت والے کا نہ ورثہ پاتی ہے اور نہ ورثہ دیتی ہے۔چنانچہ اس کے بر عکس آپ کے قول يَتَوَارَت “ میں توازن والا تقابلی پہلو نمایاں ہے جس کا یہ معنے ہر لحاظ سے قابل قبول ہے کہ جہاں کوئی ایک حربی کا فر دوسرے کو محروم کرتا ہے ، وہاں ہمیشہ دوسرے شخص کا بھی حق ہوتا ہے کہ وہ اس محروم کرنے والے کو بھی اس کے اس حق سے محروم کر دے۔اس مفہوم سے نہ اس فرمان رسول پر زد پڑتی ہے نہ اس کے عملی پہلوؤں پر حرف آتا ہے اور نہ ہی وراثت کا دائمی اصول ٹو تھا ہے۔ٹوٹتا مختصر یہ کہ حدیث کے الفاظ میں دونوں امکانات موجود ہیں۔خواہ تاریخ ، عقل اور واقعات کے خلاف ترجمہ کیا جائے یاوہ پر حکمت ترجمہ کیا جائے جو آنحضرت صلی ایم کی منشاء کے عین مطابق ٹھہرتا ہے اور مضمون کو خوب روشن کرتا ہے اور اس سے کوئی اختلاف بھی ممکن