توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 217 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 217

توہین رسالت کی سزا { 217 } قتل نہیں ہے نہیں۔یعنی اصول لا يتوارث “ ہے کہ جہاں بھی کوئی حربی ملت دوسری کو ورثے سے محروم کرتی ہو ، وہاں قاعدہ یہ ہے کہ وہ بھی اسے اس کے حق سے محروم کر دیا کرتی ہے۔اس بحث سے یہ قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ فرمان نبوی بعض جنگی حالات کے ساتھ مخصوص و محدود ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں اختلاف دین کی بناء پر حق وراثت سے محرومی کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔اشارہ بھی ایساذکر موجود نہیں کہ کوئی شخص دین کی وجہ سے وارث بنا ہو یا اسی بناء پر وراثت سے محروم ہو ا ہو۔بلکہ اس کے بر عکس قرآنِ کریم میں حقوق وراثت کو خونی تعلق کی بناء پر استوار کیا گیا ہے۔مثلاً آیاتِ میراث میں فرمایا ”لیلا جالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ( النساء: 8) کہ مردوں کے لئے اس ترکے میں سے ایک حصہ ہے جو والدین اور اقرباء نے چھوڑا۔نیز لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَلِدُنِ وَالْأَقْرَبُونَ “ ( النساء: 8) عورتوں کے لئے اس ترکے میں سے ایک حصہ ہے جو والدین اور اقرباء نے چھوڑا۔اور ”يُوصِيكُمُ الله في اولادِكُمْ (النساء:12) اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں نصیحت کرتا ہے۔اور ” وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُم (النساء: 13) اور تمہارے لئے اس میں سے نصف ہو گا جو تمہاری بیویوں نے ترکہ چھوڑا۔اور ” وَلِكُلِّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَلِدُنِ وَالْأَقْرَبُونَ “ (النساء:34) اور ہم نے ہر ایک کے لئے وارث بنائے ہیں اس (مال) کے جو والدین اور اقرباء چھوڑیں۔ایسی سب آیات میں خونی رشتوں کی بناء پر حق وراثت کا ہی ذکر ہے ، دین کے اختلاف کی وجہ سے کسی کو محروم الأرث قرار دینے کا کلیہ کوئی ذکر نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم نے چونکہ اختلاف دین و مذہب کی بناء پر وراثت کے حقوق کو قائم نہیں فرمایا اس لئے حدیث "لا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ ، کو