توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 215 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 215

توہین رسالت کی سزا (215 } قتل نہیں ہے اسے بیچ دیا تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا اپنے آباء واجداد کی جائیدادوں میں وراثت کا حق تو موجود تھا لیکن آپ کو ملا اس لئے نہیں کہ وہ جائیدادیں باقی نہیں رہیں۔پس یہاں حق وراثت کی نفی نہیں کی گئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مسلمانوں کے وہ رشتے دار جو مسلمان نہیں ہوئے تھے ، یہ ظلم کر رہے تھے کہ حقیقی وارثوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ان ورثوں سے محروم کر رہے تھے۔یہ واقعاتی شہادت ہے جس کے تناظر میں آنحضرت صلی ا م کے حکم " لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ “ کو دیکھا جائے تو اس کی حکمت روشن ہو جاتی ہے اور بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کا یہ حکم نہ وصیت و وراثت کے قرآنی قوانین کے مخالف ہے نہ ان سے متصادم۔کیونکہ یہ ایک ایسی حالت سے تعلق رکھتا ہے جہاں دشمن نے جنگی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک زیادتی میں پہل کی تھی۔اس ماحول میں رسول اللہ صلی الم فرماتے ہیں کہ ٹھیک ہے ، اگر انہوں نے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمارا حق وراثت کالعدم کیا ہے تو ان کے مقابل 66 پر ہم بھی ان کا حق اس وجہ سے ختم کرتے ہیں کہ وہ کا فر ہیں۔یہ " فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ “ والا قانون ہے۔یہی قانون ایک اور حدیث میں بھی بہت متوازن الفاظ میں بیان ہوا ہے۔فرمایا: ”لا يَتَوَارَثُ أَهلُ الْمِئَتَيْنِ شَى (ترمذی ابواب الفرائض لا توازٹ احل المتن و ابو داؤد کتاب الفرائض باب بل یرث المسلم الکافر) کہ دو مختلف ملتوں والے ایک دوسرے کا ورثہ نہیں پائیں گے۔ظاہر ہے کہ اس حدیث میں مسلمان ملت اور حربی کا فروالی ملت مراد ہے۔اس میں ” يَتوارث “ کے لفظ میں ایک تقابل پایا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کا بالمقابل ورثہ نہیں پاتے۔”اھلُ الْمِلَّتَيْنِ “ میں بھی کوئی عام حکم نہیں۔کیونکہ ساری دنیا میں ورثے کا نظام مذہب کی بناء پر نہیں، خون کے رشتے کی وجہ سے قائم ہے۔صحابہ نے بھی جب ورثہ پایا تھا تو اپنے ان ماں باپ وغیرہ ہی سے ورثہ پایا تھا جو