توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 194 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 194

توہین رسالت کی سزا { 194 } قتل نہیں ہے ہے جو وہ کرتے ہیں۔وہ کسی مومن کے معاملہ میں نہ کسی عہد کا پاس کرتے ہیں اور نہ کسی ذمہ داری کا۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو حد سے گزرنے والے ہیں۔پس اگر وہ تو بہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔اور ہم ایسے لوگوں کی خاطر نشانات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرغنوں سے لڑائی کرو۔یقینا وہ ایسے ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حیثیت نہیں ) پس اُن سے لڑائی کرو۔اس طرح) ہو سکتا ہے کہ وہ باز آجائیں۔کیا تم ایسی قوم سے لڑائی نہیں کرو گے جو اپنی قسمیں توڑ بیٹھے ہوں اور رسول کو ( وطن سے) نکال دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہوں اور وہی ہیں جنہوں نے پہلے پہل تم پر ( زیادتی کا ) آغاز کیا۔کیا تم ان سے ڈر جاؤ گے جبکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ان سے لڑائی کرو۔اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انہیں رسوا کر دے گا اور تمہیں ان کے خلاف نصرت عطا کرے گا اور مومن قوم کے سینوں کو شفاء بخشے گا۔اور ان کے دلوں کا غصہ دور کر دے گا۔اور اللہ جس پر چاہے تو بہ قبول کرتے ہوئے جھکتا ہے اور اللہ بہت جاننے والا ( اور ) بہت حکمت والا ہے۔“ بالکل واضح ہے کہ ان آیات میں مشرکوں کے ساتھ ایسے عہد کا ذکر ہے جو اسلام میں داخلے کا عہد یعنی عہد بیعت نہیں ہے بلکہ یہ اسلامی سلطنت میں اس کے قوانین کی پابندی کا عہد ہے۔مذہب میں داخلے کے لئے چار مہینے ملک میں پھرنے کی شرط نہیں ہوتی۔اس کے لئے مطالعے ، تحقیق، دعاؤں اور رجوع الی اللہ کی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ ملک میں امن و امان کا عہد کرنے کے لئے ارد گرد اور دوسرے قبائل اور شہروں کے حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی