توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 195 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 195

توہین رسالت کی سزا { 195 | قتل نہیں ہے ہے۔لہذا انہی آیات میں اسی مذکورہ بالا عہد توڑنے کے بعد بغاوت اور جنگ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ایسا عہد تو ہر شخص خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں کسی ملک کا شہری ہی کیوں نہ ہو ، اپنی حکومت سے کرتا ہے۔یہ عہد اسلام میں داخلے سے بالکل مختلف عہد ہے۔ایسے عہد کے توڑنے کو مذہب اور دین سے نکلنے سے تعبیر کرنا قیاس مع الفارق ہے اور ایک سیدھے سادے مسئلے کو خلط مبحث کر کے الجھانے کی کوشش ہے۔یہاں کتاب’ الصارم، میں اس پہلو سے بھی غلطی ہوئی ہے۔ملکی قوانین کی پابندی والے عہد کو عہد بیعت یا عہد اسلام سے بدل کر نا حق طور پر قتل و خون والے نتائج نکالے گئے ہیں۔اسلام کی تعلیم کے مطابق نہ ملکی عہد توڑنے والے کو قتل کیا جاتا ہے نہ عہد بیعت توڑ کر مرتد ہونے والے کو قتل کیا جاتا ہے۔یہ دونوں قضیئے ہی غلط ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات صور تحال کی سنگینی کے تحت بغاوت یا محاربت کرنے والے کو قتل کیا جا سکتا ہے۔یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ اسے ہر حال میں لازما قتل کیا جائے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ حالات کے مطابق اسے در گزر یا شہر یا ملک بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔بہر حال اس ملکی عہد کے توڑنے سے کسی کا قتل واجب نہیں ہو تاجب تک کہ وہ بغاوت یا محاربت کر کے فسادنہ برپا کرے۔چنانچہ اس کی بڑی مثال مسیلمہ اور اسود عنسی کی ہے کہ انہوں نے جنگ کی اور مبینہ طور پر اسی میں قتل ہوئے۔یہ تو وہ تھے جو نقض عہد کر کے محاربت میں ملوث ہوئے اور جنگ کے دوران قتل ہو گئے۔لیکن ایک تیسرا بھی تھا جس کا نام طلیحہ الاسدی تھا۔اس نے جنگ میں اپنی شکست دیکھی تو اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر فرار ہو گیا اور شام روانہ ہو گیا۔(طبری السنتہ الحادية عشرة ذكر بقية الخبر عن غطفان۔۔۔۔أمر طلیحہ وابن اثیر ذکر خبر طلیحہ الاسدی )