توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 193 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 193

توہین رسالت کی سزا 193 قتل نہیں ہے ہے۔پس چار مہینے تک تم زمین میں خوب چلو پھرو اور جان لو کہ تم اللہ کو ہر گز عاجز نہیں کر سکو گے اور یہ کہ یقینا اللہ کا فروں کو رسوا کر دے گا۔اور حج اکبر کے دن سب لوگوں کے سامنے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ عام کیا جاتا ہے کہ اللہ مشرکین سے کلیہ بیزار ہے اور اس کا رسول بھی۔پس اگر تم توبہ کر لو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم پھر جائو تو جان لو کہ تم ہر گز اللہ کو عاجز نہیں کر سکو گے۔پس وہ لوگ جو کافر ہوئے انہیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری دے دے۔سوائے مشرکین میں سے ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا پھر انہوں نے تم سے کوئی عہد شکنی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی اور کی مدد بھی نہیں کی۔پس تم اُن کے ساتھ معاہدے کو طے کردہ مدت تک پورا کرو۔یقینا اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔پس جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو جہاں بھی تم ( عہد شکن ) مشرکوں کو پائو تو اُن سے لڑو اور انہیں پکڑو اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر کمین گاہ پر اُن کی گھات میں بیٹھو۔پس اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔یقیناً اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور مشرکوں میں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلام الہی سن لے پھر اسے اس کی محفوظ جگہ تک پہنچا دے۔یہ ( رعایت ) اس لئے ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جو علم نہیں رکھتے۔مشرکین کا عہد ، سوائے ان کے جن سے تم نے مسجد حرام میں عہد لیا، اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے درست شمار ہو سکتا ہے۔پس جب تک وہ تمہارے مفاد میں ( عہد پر قائم رہیں تم بھی ان کے مفاد میں قائم رہو۔یقینا اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔کیسے ( ان کا عہد قابلِ اعتماد) ہو سکتا ہے جبکہ حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو تمہارے متعلق نہ کوئی عہد خاطر میں لاتے ہیں اور نہ کوئی ذمہ داری۔( بس ) وہ تمہیں اپنے منہ کی باتوں سے خوش کر دیتے ہیں جبکہ ان کے دل منکر ہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر بد کر دار لوگ ہیں۔انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے حقیر قیمت قبول کر لی۔پس اس کی راہ سے روکا۔یقیناً بہت برا