توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 184 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 184

توہین رسالت کی سزا 184 قتل نہیں ہے قارئین ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ایک عام معاہدے کو توڑ کر جنگ کرنے والوں سے، جن کے بارے اللہ تعالیٰ نے کھول کر بتا دیا ہے کہ ” انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی “ان سے قتال واجب ہے۔یہ الفاظ بغیر کسی ابہام کے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ یہاں جنگی صور تحال کی بات ہو رہی ہے۔قتال کا لفظ مقابلے کا مقتضی ہے۔یعنی پہل کرتے ہوئے انہوں نے جنگ شروع کی تو تمہیں پورا پورا حق حاصل ہے کہ تم ان کے مقابلے میں ان سے جنگ کرو۔یہ لفظ قتال کے براہ راست معنے ہیں۔اس صورتحال کا گالی گلوچ سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔معاہدوں کو توڑ دینا ( یعنی عہد شکنی) بالکل الگ چیز ہے اور شتم و تنقیص بالکل الگ۔مگر کتاب ” الصارم۔۔۔۔۔میں خوامخواہ دور کی کوڑی لا کر پہلے اس عہد شکنی کا گالی کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔اور پھر اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ گالی دینے والے کی سزا قتل ہے۔كتاب الصارم۔۔۔۔۔۔۔کے اس استدلال میں ایک بات اپنی طرف سے زائد بھی داخل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے گالی دینے والے کو معاف نہیں کیا۔جبکہ صور تحال یہ ہے کہ آپ نے ہر گالی دینے والے کو یعنی جس کا کوئی اور قومی جرم نہیں تھا یا ایسا کوئی جرم نہیں تھا جس کی سزائے قتل اللہ تعالیٰ نے حد کے ساتھ باندھی تھی، ہمیشہ معاف فرمایا تھا۔یہ حقیقت ہم اس کتاب میں دلائل قویہ سے ثابت کر چکے ہیں۔الغرض یہ ایک مفروضہ ہے کہ رسول اللہ صلی علی کمر پر سب و شتم کرنے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔قرآن کریم یا احادیث صحیحہ سے اس مفروضے کی کوئی بنیاد ثابت نہیں ہے۔کسی آیت قرآنی سے بر اور است ایسا کوئی استنباط نہیں ہوتا۔بہر حال اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گالی کا تعلق گندی سوچ یا بسا اوقات محض زبان کی گندگی سے ہے، لیکن اس کا نقض عہد سے کوئی تعلق نہیں۔عہد کا توڑنا ایک