توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 185
توہین رسالت کی سزا 185 }- قتل نہیں ہے ارادے اور فیصلے کا متقاضی ہے۔یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ گالی دینے والا لبعض اوقات باوجود اپنے عہد پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے بھی اپنی گندی زبان، عادت، کسی انگیخت یا کسی منفی رد عمل کی وجہ سے بلکہ بعض اوقات غیر شعوری طور پر گالی دے رہا ہو تا ہے۔جس کے عقب میں اس کا عہد توڑنے کا کوئی عزم وارادہ نہیں ہو تا۔کتاب "الصارم۔۔۔۔۔۔میں شاتم رسول کو متعدد بار ناقض عہد قرار دے کر اس پر قتل کا فتوی لگایا گیا ہے۔لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے، امر واقعہ یہ ہے کہ جس عہد کی یہاں بات ہو رہی ہے ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں رہنے والا غیر مسلم اس حکومت کی اطاعت میں رہنے کا جو عہد کرتا ہے، یہاں وہ عہد مراد ہے۔یہ عہد ملکی قوانین کی پابندی کا عہد ہے۔ایسا عہد کرنے والے کو معاہد یا ذقی کہا جاتا ہے۔چنانچہ کتاب' الصارم۔۔۔۔کی ابتداء ہی میں یہ اصول زیر بحث لایا گیا ہے کہ ذمی کا عہد کن باتوں سے ٹوٹتا ہے۔اس پر مختلف مکتبہ ہائے فکر کے فقہاء کی آراء اور فتاویٰ وغیرہ درج کئے گئے ہیں۔ان میں سے بعض نے شتم رسول کو نقض عہد کا موجب قرار دیا ہے تو بعض نے اس سے بالکل اتفاق نہیں کیا۔ان کے فتوے اور آراء کلی اس کے مخالف ہیں۔یعنی یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ اس مسئلہ پر اجماع نہیں ہے۔بلکہ یہ سب مخصوص طرز کے علماء کے صرف اجتہادات یار جحانات ہیں۔ان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔یہ الگ حقیقت ہے کہ کسی آیت کریمہ میں یا قولِ رسول و خلفائے راشدین میں یہ موجود نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی للی علم کو گالی دینے والا ناقض عہد ہے۔وو بہر حال یہ ایک تفصیلی بحث ہے جو کتاب کے پہلے باب " إِنَّ مَنْ سَبِّ النَّبِي عل الله عليه مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ كَافِي فَإِنَّهُ يَجِبُ قَتْلَهُ“ میں موجود ہے۔(اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جس نے بھی رسول اللہ صلی الی یکم کو گالی دی، چاہے مسلمان ہو یا کافر ، اس کا قتل واجب ہے) اس بحث کا تفصیلی